The news is by your side.

Advertisement

سائیکل پر آئس کریم فروخت کرنے والی “ننھی ریما” عزم وہمت کی اعلیٰ مثال

جن ہاتھوں میں قلم اور کھلونے ہونے چاہیئے ان نرم کلائیوں کو وقت کے بے رحم لہروں نے وزنی سائیکل کھیچنے پر مجبور کردیا ہے۔

ننھے اور ننگے پاؤں سے بھاری بھر کم سائیکل چلا کر بیمار ماں باپ اور کمسن بہن بھائیوں کا سہارا بننے والی نو سالہ ریما ہمت اور حوصلے کی مثال بن گئی ہے۔

ریما کا تعلق صوبہ سندھ کے ضلع سکھر سے ہے، تعلیم حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ ریما سکھر کی تپتی گرمی کو بالائے طاق رکھتے ہوئے گلی گلی آئسکریم فروخت کرتی ہے۔

اے آر وائی نیوز سے خصوصی گفتگو میں ننھی ریما نے آپ بیتی بتائی کہ والد کے بیمار ہونے کے باعث میں نے آئسکریم بیچنے کا فیصلہ کیا، پڑھنے کا بہت دل کرتا ہے مگر حالات کی مجبوری کے باعث آئسکریم بیچتی ہوں۔

اس موقع پر ننھی ریما نے ایسا تاریخی جملہ ادا کیا کہ جسے سن کر آپ بھی عش عش کر اٹھیں گے، ننھی ریما نے کہا کہ ” کسی کے سامنے ہاتھ پھیلانے سے بہتر ہے کہ ہم خود اپنے لئے روزی کمائیں”۔

ریما کے والد منیر خود ایک محنت کش ہے اور اپنے بچوں کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کرنے کی امید سے جی رہا تھا کہ اسے اور اس کی شریک حیات کو بیماریوں نے آگھیرا، باپ بیمار ہوا تو بیٹی نے محنت سے کمانے کا بیڑا اٹھالیا۔

ریما کے والد نے اعلیٰ حکام سے اپیل کی ہے کہ ان کی مدد کی جائے تاکہ وہ اپنے بچوں کی روزی روٹی کمانے کے لئے کچھ بہتر کرسکیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں