The news is by your side.

Advertisement

بے ترتیب کہانیوں کا کہانی کار، ارشد رضوی

مضمون نگار: سید کامی شاہ

ایک کہانی اس جملے سے شروع ہوتی ہے:

’’دن اس کے ہاتھوں سے پھسل جاتے ہیں اور وہ ڈھونڈتا رہتا ہے، مگر ڈھونڈ محض خود کو مصروف رکھنے کا عمل ہے۔ ورنہ زندگی تو ایسے بھی گزر جاتی ہے اور ویسے بھی۔ کھوج بے معنی ہے، ایک بے کار مشقت، جس کا حاصل فقط تھکن ہے۔‘‘

اسی تھکے ہوئے، بکھرے ہوئے ہجوم میں ایک کہانی کار ہے، جس کا نام ارشد رضوی ہے اور وہ ایک انوکھا کہانی کار ہے۔

اس کی کہانیاں پڑھیں تو لگتا ہے کہ ارشد رضوی وقت سے کٹ کر گرا ہوا لمحہ ہے جو کہیں خلائوں میں بھٹک گیا ہے۔ وہ سانس لیتے سایوں کا ہم سفر ہے۔ وہ بلیوں، سانپوں، بچھوئوں، مینڈکوں اور اندھیروں کے سانسوں میں جلتی کہانی ہے، وہ کونوں کھدروں میں بھٹکتی بے چین آنکھ ہے، جس کے گھر پر چوہوں نے قبضہ کرلیا ہے۔ اس کا دماغ اوہام سے بھری پٹاری ہے، جس میں تشکیک کلبلاتی ہے اور تجسس کو ہوا دیتی ہے۔

وہ انجان جزیروں پر بھٹکتا جہاز راں ہے، جسے سمندر  نے  پہچاننے سے انکار کر دیا ہے۔ وہ ہزار سال پرانا جوگی ہے جو بھیس بدل کر سانپ بن جانا چاہتا ہے۔ وہ بے حس معاشرے کا حساس دماغ ہے اور  اسی لیے بے چین اور مضطرب رہتا ہے اور کھولتا رہتا ہے۔ وہ غضب کا کہانی کار ہے، اس کے جھولے میں کہانیوں کی بہت سی پٹاریاں ہیں جن میں رنگ برنگی، چمکیلی، اندھیری، سانپوں سی پُرپیچ کہانیاں ہیں۔ جیسے باغ کے کسی نیم تاریک گوشے میں کوئی چمکیلا سانپ کنڈلی مارے بیٹھا ہو۔

ڈاکٹر ارشد رضوی

ارشد رضوی واحد کہانی کار ہے۔ جس کی کہانی میرا ہاتھ پکڑ کر مجھے اس کے دروازے تک لے گئی، اس کی کہانیاں عجیب کہانیاں ہیں۔ ایک عجیب سی فینٹسی میں وقوع پزیر ہوتی ہیں، جیسے کوئی نشے کی کیفیت ہو یا کوئی گہری نیند کا خواب یا آسمان پر بادلوں کو جوڑ کر منظر نامہ تشکیل دیا جارہا ہو۔ اس کی کہانیاں آدمی کے اندر کی کہانیاں ہیں۔ جو ہمارے باہر بکھری پڑی ہیں۔ اس کی ساری کہانیاں تلخ ہیں۔ ان میں ننگا سچ اُبلتا ہے اور خون کھولاتا ہے۔ وہ ایک سفاک کہانی کار ہے۔ اپنی کہانیوں کے بارے میں کہتا ہے:

’’یہ نہیں ہے کہ کہانیاں لکھی نہیں گئیں یا یہ خود فریبی کہ میرے بعد لکھی نہیں جائیں گی یا یہ کم عقلی کہ میری کہانیاں تخلیق نہ ہوتیں، تو کائنات کا یہ پرانا، مگر ہر لمحہ تبدیل ہونے والا چکر رک جاتا، کیا ہوتا اگر میری کہانیاں تخلیق کے جرم سے نہ گزرتیں؟ شاید میرا کتھارسس نہ ہوتا، ذات اندر ہی اندر مچلتی رہتی۔ خون اندر ہی اندر بہتا رہتا۔ زخم اندر ہی اندر جگہ بناتا رہتا۔‘‘

اس بے یقینی اور عدم اطمینانی سے نکلنے کے لئے ارشد رضوی نے کہانی کا سہارا لیا، مگر کیا کہانی لکھنے کے عمل نے اس کے سلگتے ہوئے دماغ میں کچھ اطمینان بھرا یا اسے اور زیادہ بے چین کردیا؟

اس بات کا جواب تو ارشد رضوی ہی دے سکیں گے، مجھے یہ محسوس ہوتا ہے کہ کہانیاں لکھنے کے عمل نے ارشد رضوی کو اور زیادہ بے چین اور مضطرب کردیا ہے۔

کہانی ارشد رضوی کا زخم بھی ہے اور مرہم بھی۔ کہانی دکھ بانٹنے والا دوست بھی ہے اور گھات میں بیٹھا دشمن بھی۔ کہانی اذیت پسند محبوبہ بھی ہے اور اکتائی ہوئی بیوی بھی۔

کہانی ارشد رضوی کا زخم بھی ہے اور مرہم بھی۔ کہانی دکھ بانٹنے والا دوست بھی ہے اور گھات میں بیٹھا دشمن بھی

سید کامی شاہ

ارشد رضوی کو کہانی کے سارے رویوں سے محبت ہے۔ اس کی کہانیاں پڑھنے سے احساس ہوتا ہے کہ کہانی بھی ارشد رضوی سے محبت کرتی ہے، جب ہی تو وہ اپنا آپ اسے سونپ دیتی ہے اور پھر دور کھڑی ہو کر اس کا تخلیقی انہماک دیکھتی ہے۔

کہتے ہیں تخلیق انکشافِ ذات ہوتی ہے۔ ارشد رضوی کی کہانیوں کے کچھ ٹکڑے دیکھیے:

’’انہیں پاگل خانے بھیج دیجیے۔‘‘

ڈاکٹر کہہ رہا تھا۔ ’’میں نے لکھ دیا ہے، مریض ٹھیک ہونے کی حالت سے نکل چکا ہے۔،،

’’پاگل خانے؟‘‘ وہ بڑبڑایا

’’تو یہ سب کیا ہے، یہ بڑا سا پاگل خانہ۔ آسمان اور زمین کی بے معنی حدوں میں اسیر پاگل خانہ، جو مردہ خانے میں تبدیل ہوتا رہتا ہے۔،،

کہتے ہیں، کسی بھی عہد کا قلم کار، شاعر ادیب جو کچھ بھی اپنے بارے میں لکھتا ہے در حقیقت وہ معاشرے کے بارے میں ہوتا ہے۔ ارشد رضوی نے جس معاشرے میں آنکھ کھولی وہ ایسا ہی ہے۔ بے ترتیب، بیمار، بیکار اور فرسٹرڈ۔ ایک بڑا سا پاگل خانہ جو ایک اور بڑے پاگل خانے کی سرحدوں میں واقع ہے۔ ارشد رضوی کی کہانیاں اگر بے ترتیب ہیں، تو ا س کا مطلب ہے سارا معاشرہ ہی بے ترتیب ہے۔ اگر اس کی کہانیاں بیمار ہیں اور پریشان کرتی ہیں، تو اسکا مطلب ہے کہ سارا معاشرہ ہی بیمار ہے اور پریشان کرتا ہے۔

ارشد رضوی کا مشاہدہ جتنا مضبوط ہے، اس کی تخلیقی قوت بھی اتنی ہی طاقتور ہے، وہ ایسے غضب کے فقرے لکھتا ہے کہ دماغ سلگ اٹھتا ہے۔

مضمون نگار

اپنی کتاب کے دیباچے میں اس نے کہا:

’’یہ کہانیاں ہیں، جن کے سانس لیتے کردار ہیں، کرداروں کی پُرپیچ، پُراسرار، دیکھی ان دیکھی عادتیں ہیں، عادتوں میں عیاری ہے، تجسس ہے، نفرت ہے اور محبت بھی ہے، اندر کہیں مساموں سے پھوٹتی ہوئی، اس لئے کہ یہ پکے رنگ ہیں، جس بے ترتیب معاشرے میں مَیں نے آنکھ کھولی اس نے مجھے ایسے ہی کردار دیے ہیں۔ معاشرے کی بےترتیبی کرداروں میں نظر آسکتی ہے۔ اندر اور باہر دونوں طرف کی نفسیاتی دیواروں میں دیمک کی چھوڑی ہوئی لکیروں کی صورت۔‘‘

ایسے بیسیوں جملے آپ کو اس کتاب میں ملیں گے، جو آپ کے حلق کڑواہٹ سے بھر دیں گے اور آپ کو سوچنے پر مجبور کردیں گے، مگر ایک بات ہے کہ ارشد رضوی کی کہانیاں پڑھتے ہوئے ایک تاثر غیر تکمیلیت کا ابھرتا ہے۔ کہیں کچھ چیزیں اور کردار ہیں، کچھ مناظر ہیں جو واضح نہیں ہیں۔ کہیں کچھ باتیں ہیں جو ٹوٹی ہوئی ہیں۔ کچھ لوگ ہیں جو آدھے ادھورے ہیں۔ اور ان کے رویے، ان کی باتیں، ان کے خواب، ان کے جذبے سبھی کچھ ادھورا ہے۔ کچھ واقعات کا ڈھیر ہے۔ جو ابہام کی دھند میں لپٹا ہے اور چیزوں نے اپنی ترتیب بدل لی ہے۔

ایک عجیب سا موسم، ایک سا موسم آکر ٹھہر گیا ہے۔ عجیب شک زدہ، بے یقین، اور اداس سا موسم، اسی ٹھہرے ہوئے موسم میں خلق ہونے والی یہ بے ترتیب کہانیاں پڑھنا کسی کراس ورڈ پزل کو حل کرنے کے برابر ہے۔ جلدی جلدی تیز تیز جملے آتے جاتے ہیں اور اپنی ترتیب بناتے جاتے ہیں۔ بہت دیر تک تو احساس ہی نہیں ہوتا کہ ان سلگتے ہوئے، کڑوے اور بے ترتیب جملوں کے انبار تلے کوئی کہانی بھی پنپ رہی ہے۔ پھر کہیں سے اچانک ایک کہانی نمودار ہوتی ہے، میری کہانی، آپ کی کہانی، اس معاشرے کی کہانی،اس کائنات کی پرانی کہانی، مگر یہ طے نہیں ہے کہ کوئی بھی کہانی کسی قاری پر پوری کھلتی ہے یا نہیں۔

ارشد رضوی کا مشاہدہ جتنا مضبوط ہے، اس کی تخلیقی قوت بھی اتنی ہی طاقتور ہے، وہ ایسے غضب کے فقرے لکھتا ہے کہ دماغ سلگ اٹھتا ہے۔

سید کامی شاہ

یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا کبھی کوئی کہانی مکمل بھی ہوتی ہے؟

میں تو یہ سمجھتا ہوں کہ کوئی کہانی مکمل نہیں ہوتی بلکہ چلتی رہتی ہے، نئے مناظر، نئے کردار و واقعات کے ساتھ!

کہیں کوئی منظر نامہ مکمل ہوجاتا ہے اور کرداروں کے پاس مزید کچھ کہنے کو باقی نہیں بچتا، مگر کہانی نہیں رکتی۔ کہانی چلتی رہتی ہے۔

ایسی ہی بے ترتیب کہانیوں کا خالق ارشد رضوی فقط حیرت سے مسئال کو دیکھتا نہیں ہے، بلکہ وہ ان مسائل کے اندر اتر جاتا ہے اور جب باہر آتا ہے تو اس کے ہاتھ میں ایک کہانی دبی ہوتی ہے اور آنکھوں میں تخلیق کا شعلہ لپک رہا ہوتا ہے۔

ارشد رضوی آدمی کو بھی جانتا ہے اور ادب کو بھی۔ انسانی نفسیات پر اس کی گرفت بہت کامیاب ہے۔ آدمی کے اندر کے معاملات کو اس نے اتنی عمدگی سے برتا ہے کہ باہر کا آدمی صرف باہر سے اندازہ نہیں لگا سکتا۔ ارشد رضوی اپنے اندر اور باہر پھیلی دونوں دنیائوں کا عکاس ہے۔ ان بے ترتیب کہانیوں کو پڑھتے ہوئے آپ کو ایک عجیب و غریب سحر زدہ سی بستی نظر آئے گی جو اپنے ہی مکانوں کی چھتوں پر گر پڑی ہے، جس کے سارے ہی قواعد و ضوابط مختلف ہیں۔

ارشد رضوی کو ان کہانیوں کو یکجا کرنے کی ذمے داری سونپی گئی ہے، اس کے اندر ایک نامختتم اندھیرا کسی وہم کی صورت پھیلا ہے اور وہ کسی الوہی روشنی کا متلاشی ہے، اسے آسمان سے پرندوں کے روٹھ جانے کا دکھ ہے۔۔ وہ زندہ گھروں پر منڈلاتی موت کی بو سونگھتا ہے اور پوچھتا ہے۔۔

زندگی کب تک مرنے اور جینے کے خانوں میں بٹی رہے گی؟

اس کے اندر کی سلیٹ پر سوال لکھے جاتے ہیں، مگر جواب کہیں نہیں ہے۔ وہ انسانیت کے بدن کو دکھوں اور پپڑی جمے زخموں سے آزاد دیکھنا چاہتا ہے مگر دکھ اس کے اندر ہی اندر جگہ بناتے رہتے ہیں اور وہ سوالوں کی بھول بھلیوں میں بھٹکتا رہتا ہے۔ وہ کہتا ہے:

ہم سب تیسری دنیا کے بے چہرہ، بے شناخت اور بے ترتیب لوگ ہیں۔

بے ترتیبی بے یقینی کو جنم دیتی ہے یوں بے ترتیبی بڑھتی رہی اور کہانیاں لکھی جاتی رہیں، اسی زمین و کائنات کی اور ہم سب کی کہانیاں جن کے نام اور کردار بدل جاتے ہیں مگر کہانی کبھی نہیں بدلتی اور نہ رکتی ہے۔ کہانی کا سفر جاری رہتا ہے۔ کہانی ہمیشہ نئے کرداروں او رنئے منظرناموں کے ساتھ اپنے آپ کو دہراتی رہتی ہے، معاشرے میں ٹوٹ پھوٹ اور شناخت کے بحران کا عمل اسی طرح جاری ہے اور کہانی کی بُنت کا سفر بھی۔

فی الحال ایک کہانی اس جملے پر ختم ہوتی ہے۔

’’میرے تلوؤں پر سرخ گلاب کھلا ہے اور انگلیوں میں تخلیق کا شعلہ ابھی بھی لپک رہا ہے۔،،

مجھے یقین ہے کہ اتنے بھرپور لہجے میں بات کرنے والے ڈاکٹر ارشد رضوی کو جدید کہانی کے سفر میں ایک اہم کہانی کار کے طور پر ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں