سعودی عرب کے حراستی مرکز میں ہزاروں پاکستانی محصور -
The news is by your side.

Advertisement

سعودی عرب کے حراستی مرکز میں ہزاروں پاکستانی محصور

ریاض: سعودی عرب کے شہر مکہ کے حراستی مرکز شمیسی کیمپ میں محصور ہزاروں پاکستانی مزدور فاقہ کشی پر مجبور ہوگئے۔

تفصیلات کے مطابق سعودی عرب میں مقیم ہزاروں پاکستانیوں کو مکہ کے حراستی مرکز شمیسی کیمپ میں قید رکھا گیا ہے جن کا کوئی پرسان حال نہیں ہے۔

کیمپ میں موجود پاکستانیوں نے اے آر وائی نیوز سے رابطہ کرکے اپنے مسائل سے آگاہ کیا، پاکستانی قیدیوں کا کہنا ہے کہ ’’پاکستانی سفارت خانے کے نمائندوں سے رابطہ کرتے ہیں تو وہ افرادی قوت کی کمی کا رونا رو کر ہم سے تعاون نہیں کرتے اور معذرت کرلیتے ہیں‘‘۔

پڑھیں: سی ای اواے آروائی سلمان اقبال کا سعودی عرب میں پھنسے پاکستانیوں کے لیےاہم اعلان

پاکستانی شہریوں کا کہنا ہے کہ ’’ہمارا کوئی پرسان حال نہیں ہے، اس کیمپ میں موجود پاکستانی فاقے کرنے پر مجبور ہوگئے ہیں تاہم کچھ پاکستانی فلاحی تنظیموں کی جانب سے کھانا پہنچا دیا جاتا ہے۔

متاثرین نے مزید کہا کہ ’’گزشتہ روز 30 گھنٹے بھوکے رہنے کے بعدایک پاکستانی فلاحی تنظیم کی جانب سے کھانا پہنچایا گیا تھا تاہم اب آئندہ کھانا کب نصیب ہوگا کچھ نہیں کہہ سکتے‘‘۔

مزید پڑھیں: سلمان اقبال کی کاوش، شاہین ائیرلائن نے بھی خدمات پیش کردیں

یاد رہے گزشتہ روز اے آر وائی کے سی ای او سلمان اقبال کی جانب سے سعودی عرب میں پھنسے پاکستانیوں کو اپنے اخراجات پر واپس لانےکا اعلان کیا گیا تھا جس کے بعد شاہین ائیرلائن کے چیئرمین نے رابطہ کرکے اپنے مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی۔

سی ای او اے آر وائی سلمان اقبال نے انصار برنی ٹرسٹ کے سربراہ سے رابطہ کر کے سعودی عرب میں پھنسے پاکستانیوں کو  واپس لانے کے لیے ہر قسم کے اقدامات بروئے کار لانے کی اپیل کی تھی جس کے بعد سماجی رہنما نے حکومتی اراکین سے رابطہ کر کے  متاثرین کی واپسی کا معاملہ اٹھایا۔

بعد ازاں انصار برنی نے اے آر وائی نیوز سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’’کچھ افراد عید تک وطن واپس آجائیں گے اور عید اپنے خاندان کے ہمراہ گزاریں گے تاہم بقیہ افراد کی واپسی کے لیے ہر سطح پر کوشیش کی جائیں گی، انہوں نے سلمان اقبال کی جانب سے اس معاملے پر آواز بلند کرنے کے اقدام کو سراہتے ہوئے کہا کہ ’’سلمان اقبال نے ہمیشہ ثابت کیا ہے کہ وہ سچے پاکستانی ہیں اور پاکستان سے والہانہ عقیدت رکھتے ہیں‘‘۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں