The news is by your side.

بیرون ملک پاکستانیوں کو ووٹ کا حق، تحریری حکمنامہ جاری

بیرون ملک پاکستانیوں کو ووٹ کا حق دینے کے معاملے پر اسلام آباد ہائیکورٹ نے تحریری حکمنامہ جاری کر دیا۔

تحریری حکمنامہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے جاری کیا ہے۔ حکمنامہ کے مطابق سپریم کورٹ نے واضح کہا آرٹیکل 17 کی تشریح کےمطابق اوورسیز کو ووٹ کاحق دیا گیا ہے ووٹ کےحق کو 2017 کے ایکٹ کےترمیم شدہ سیکشن 94 کےذریعے تسلیم کیاگیا دونوں فیصلوں کا بغور جائزہ لیا گیا ہے۔

حکمنامہ میں کہا گیا ہے کہ سپریم کورٹ نے اوورسیزپاکستانیوں کو ووٹ کاحق استعمال کرنے کا حقدار قرار دیا سپریم کورٹ نےہدایت کی پائلٹ پراجیکٹس شروع کیے جائیں تاکہ ایسی ووٹنگ کی تکنیکی افادیت، رازداری، سیکورٹی اور مالی امکانات کا پتہ لگایا جا سکے یہ ہدایت الیکشن کمیشن کو دی گئی تھی۔

تحریری حکمنامہ کے مطابق مقرر ہ وقت میں پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں پیش کرنے کی ہدایت کی گئی منسوخ جیسے ترمیمی ایکٹ 2021 کےذریعے 2017 ایکٹ میں داخل کیا گیا تھا ظاہر کرتا ہے نارایا کسی اور اتھارٹی کی مدد لی جائے گی تاکہ اوورسیزکو قابل بنایا جا سکےتاکہ اوورسیز رازداری اور حفاظت کے ساتھ مشروط طریقے سے ووٹ دیں ایسا لگتا ہے کہ یہ اندراج سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق کیا گیا ہے درج کردہ شق سپریم کورٹ کے فیصلوں کےمطابق بھی دکھائی دیتی ہے ترمیم شدہ شق سمندرپار پاکستانیوں کو ووٹ کا حق استعمال کرنے سے محروم کرنے کی کوشش ہے۔

اسلام آبادہائیکورٹ نے کہا کہ عدالت کو کسی آئینی سوال کا فیصلہ کرنے سے پرہیز کرنا چاہیے اگر کسی کیس کا فیصلہ دیگریاتنگ بنیادوں پر کیا جا سکتا ہے عدالت کو اس سےبڑےآئینی سوال کا فیصلہ نہیں کرنا چاہیےجتناکہ مقدمے کے تعین کےلیےضروری تھا ترمیم شدہ سیکشن غیر واضح طور پر کسی کے حق کو تسلیم کرتا ہے الیکشن کمیشن سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ اپنی آئینی اور قانونی ذمہ داریاں پوری کریں گے درخواست میرٹ کے بغیر ہے اور درخواست کو خارج کی جاتی ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں