The news is by your side.

Advertisement

روس کا مفت ویزا دینے کا اعلان، پوٹن کے دستخط، حکم نامہ جاری

ماسکو: روس نے اگلے برس منعقدہ فٹ بال ورلڈ کپ اور اس وقت جاری فیفا کپ کے لیے دنیا بھر کے شائقین کو مفت ویزا دینے کا اعلان کردیا، صدر پوٹن نے نئے قانون پر دستخط کردیے۔

خلیج ٹائمز کے مطابق روسی حکام نے ایک نئی ویزا اسکیم متعارف کرائی ہے جس کے تحت فٹ بال کے شائقین کو روس میں بغیر ویزا کے داخلے کی اجازت ہوگی۔

روسی صدر ولادی میر پوٹن نے ویزا فری سسٹم سے متعلق اس حکم نامے پر دستخط کردیے ہیں جس کے تحت فٹ بال کے شائقین روس کا دورہ کرسکیں گے۔

رشین ایمبیسی کی آفیشل ویب سائٹ کے مطابق رشین فیڈریشن کی قانونی سازی کے تحت دو اسپورٹس ایونٹس کے لیے غیر ملکی باشندوں کا روس میں داخلہ مفت قرار دیا جارہا ہے جن میں فیفا کنفیڈریشن کپ 2017ء اور فیفا ورلڈ کپ 2018ء شامل ہیں۔

فیفا کنفیڈریشن کپ 17 جون سے شروع ہوچکا ہے  جو کہ 2 جولائی تک جاری رہے گا، یہ کپ ماسکو، سینٹ پیٹرزبرگ، سوچی،قازان میں منعقدہورہا ہے، شائقین کے لیے ان تمام شہروں میں جانے پر کوئی پابندی نہیں ہوگی۔

اسی طرح فیفا ورلڈ کپ 2018ء 14 جون سے 15 جولائی تک روس کے مختلف شہروں میں منعقد ہوگا ان میں  ماسکو، سینٹ پیٹرزبرگ، سوچی،قازان سمیت روس کے 12 شہر شامل ہیں، شائقین کے لیے ان تمام شہروں میں بغیر ویزا جانا ممکن ہوگا۔

 ولادی میر پوٹن کی جانب سے منظور  کردہ اس نئے قانون کے تحت یہ سہولت ان افراد کو دستیاب ہوگی جن کے پاس سیاحتی ویزا اور رشین ایمبیسی کی جانب سے جاری کردہ فین آئی ڈی ہوگی۔

رشین ایمبیسی کی جانب سے ان شائقین کو فین آئی ڈی جاری کی جائے گی جن کے پاس فٹ بال ایونٹ دیکھنے کے لیے ٹکٹ موجود ہوں گے جس کے بعد شائقین روس میں بغیر ویزا داخل ہوں گے اور  فٹ بال ایونٹ کے دوران مختلف شہروں میں گھوم پھر سکیں گے۔

یعنی اب روس میں ویزا مفت حاصل کرنے کے خواہش مند افراد کو صرف دو چیزیں دکھانا ہوں گی، اول فین آئی ڈی اور دوم پاسپورٹ اور وہ متعدد شہروں میں بغیر کسی روک ٹوک کے گھوم پھر سکیں گے۔

چند روز قبل ترکی نے یورپ جانے والے پاکستانی شہریوں کو 7 روزہ مفت ٹرانزٹ ویزا دینے کا اعلان کیا ہے۔


یہ بھی پڑھیں: پاکستانیوں کو ترکی کے 7 روزہ مفت ٹرانزٹ ویزوں کا اجرا


قبل ازیں روس کے شہر سوچی میں سال 2014ء میں سرمائی اولمپکس کا انعقاد کیا گیا تھا اس وقت بھی شائقین کو ویزا فری داخلہ دیا گیا تھا۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں