The news is by your side.

Advertisement

روسی کرنسی نے یورو ڈالر کو پیچھے چھوڑ دیا

ماسکو: روسی کرنسی روبل کی قدر میں یورو اور ڈالر کے مقابلے میں تاریخی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

غیرملکی میڈیا کے مطابق رواں سال روسی کرنسی روبل کی قیمت میں 30 فیصد کے ریکارڈ اضافہ کے بعد اسے رواں سال کی بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والی کرنسیز میں شامل کرلیا گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق 20 مئی کو روبل کی قیمت میں یورو کے مقابلے میں نو فیصد جبکہ ڈالر کے مقابلے میں 4 فیصد اضافہ ہوا، روبل کی قیمت میں یہ پانچ سال کے دوران ہونے والا سب سے زیادہ اضافہ ہے۔ اب ایک یورو کی قیمت 61.10 روبل ہوگئی ہے اور یہ سطح جون 2015 میں دیکھی گئی تھی جبکہ ایک ڈالر 59.10 روبل کا ہوگیا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ روسی کرنسی میں اضافہ کی بڑی وجہ یورپی ممالک کی جانب سے روسی گیس کی خریداری کیلئے ادائیگی روبل میں کرنے کو قرار دیا ہے۔

خیال رہے کہ روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے یکم اپریل سے روسی گیس کی ادائیگی روبل میں کرنے کے احکامات دیتے ہوئے کہا تھا کہ غیرملکی کمپنیوں نے ادائیگیاں نہیں کیں تو گیس کی فراہمی روک دی جائے گی۔

یہ بھی پڑھیں: یورپی ممالک نے روس کے آگے گھٹنے ٹیک دیے

یورپی ممالک نے روسی صدر کے تجویز کو مسترد کرتے ہوئے روبل میں ادائیگی کرنے سے انکار کریدا تھا، جس کے بعد روس نے دو یورپی ممالک کی گیس بھی بند کردی تھی۔

تاہم ممکنہ گیس بندش کے باعث جرمنی اور اٹلی سمیت متعدد یورپی ممالک نے اپنی کمپنیوں کو روسی گیس کی ادائیگی کے لیے روبل اکاؤنٹس کھولنے کی اجازت دے دی ہے۔

دوسری جانب روسی ذرائع کا کہنا ہے کہ اس کی گیس کمپنی گیس پروم کے 54 صارفین نے گیس پروم بینک میں اکاؤنٹس کھولے ہیں اور یورپین کمپنیوں کی جانب سے گیس سپلائی کے لیے ادائیگیوں کو بروقت کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں