The news is by your side.

Advertisement

کیا مکمل ویکسی نیٹڈ افراد بھی ڈیلٹا وائرس پھیلانے کا سبب بنتے ہیں؟ اہم انکشاف منظر عام پر

کرونا وبا کے آغاز کے ساتھ ہی اس میں ہونے والے تبدیلی نے سائنسدانوں کو چکرا کر رکھ دیا ہے، اب سائنسدانوں نے مکمل ویکسی نیشن کرانے والے افراد سے متعلق اہم انکشاف کیا ہے۔

واشنگٹن پوسٹ میں شائع ہونے والی دستاویزات میں خبردار کیا ہ کہ ویکسین کی دونوں خوراک لینے والے شہری بھی ڈیلٹا کی مختلف اقسام کو ویکسین نہ لگوانے کی طرح ہی پھیلانے کا سبب بن سکتے ہیں۔

دستاویزات کے مطابق ویکسین لگوانے والے نوے فیصد سے زائد افراد شدید نوعیت کے بیمار نہیں ہوتے، لیکن وہ وائرس کو آگے بڑھانے کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں۔

دوسری جانب امریکی ماہرین کا کہنا ہے کہ کرونا ویکسین سے وائرس کے شدید وار سے سو فیصد بچا جا سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: پینٹاگون کا امریکی فوجیوں کی ویکسی نیشن سے متعلق اہم اعلان

اس بات کا دعویٰ بیماریوں پر قابو پانے اور ان کی روک تھام کے مراکزسی ڈی سی کے اعداد و شمار میں کیا گیا ہے، سی ڈی سی کے مطابق 99.99 فیصد افراد جو کرونا وائرس کی دونوں ڈوز لگوا چکے ہیں ان پر وائرس کا اتنا شدید اثر نہیں ہوتا کہ انہیں اسپتال منتقل ہونا پڑے یا انہیں موت کا خطرہ لاحق ہو۔

امریکی سینٹر فارڈزیز کنٹرول کے مطابق دو اگست تک سولہ کروڑ چالیس لاکھ امریکیوں کی کورونا ویکسی نیشن مکمل ہوچکی، مکمل طور پر ویکسی نینڈ سولہ کروڑ میں سے پندرہ سو سات افراد کرونا میں مبتلا ہونے کے بعد چل بسے، یہ شرح 0.001 فیصد بنتی ہے۔

اسی طرح ان سولہ کروڑ افراد میں سے سات ہزار ایک سو ایک افراد کرونا میں مبتلا ہونے کے بعد اسپتال داخل ہوئے، ان کی شرح 0.005 بنتی ہے۔

امریکی ماہرین کا کہنا ہے کہ مئی سے سی ڈی سی کی تمام تر توجہ ان کیسز پر مرکوز ہے جو کرونا وائرس میں مبتلا ہو کر اسپتال میں داخل ہیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں