The news is by your side.

سعودی عدالت کی جانب سے غیر ملکی کو بڑا ریلیف

سعودی عرب کی اپیل کورٹ نے غیر قانونی طور پر برطرف کیے گئے غیر ملکی کے حق میں فیصلہ سناتے ہوئے آجر ادارے کو ہرجانہ ادائیگی کا حکم دیا ہے۔

سعودی اخبار کے مطابق مملکت میں مقیم غیر ملکی نے اپنی برطرفی پر نجی ادارے کے خلاف عدالت سے رجوع کیا تھا اور عدالت کو بتایا تھا کہ آجر نے اسے نقصان پہنچانے اور ملازمت کے واجبات سے محروم کرنے کے لیے فرضی ہروب کی رپورٹ درج کرائی ہے۔

پرائمری کورٹ نے ابتدائی طور پر کیس مسترد کر دیا تھا جس کے بعد درخواست گزار غیر ملکی نے اپیل کورٹ سے رجوع کیا تھا۔

غیر ملکی نے اپیل کورٹ میں موقف اختیار کیا کہ اسے ادارے نے ناحق برطرف کیا۔ حقوق کی ادائیگی میں ٹال مٹول سے کام لیا اور نقل کفالہ کے حق سے محروم رکھا۔

مدعی کا یہ بھی کہنا تھا کہ برطرفی غیر قانونی ہے جبکہ ملازمت کے معاہدے کی تکمیل میں 8 ماہ باقی تھے۔ ناحق برطرف کرکے دباؤ میں لانے کے لیے خروج نہائی کا اجرا کیا۔ نقل کفالہ بھی نہیں دیا گیا۔ ہروب کی جھوٹی رپورٹ کے بعد سے وہ بے روزگار ہے، نقل کفالہ اور اقامے کی تجدید نہیں کرا سکا جس سے اسے اور اس کے خاندان کو مالی، ذہنی اور اخلاقی نقصان پہنچا ہے۔

درخواست گزار نے عدالت کو یہ بھی بتایا کہ اس کی بیٹی کو جو بیرون مملکت تعلیم حاصل کر رہی تھی اقامے کی 22 ماہ تک توسیع نہ ہونے سے تعلیم مکمل نہیں کر سکی۔ اسے اور اس کے خاندان کو پہنچنے والے نقصان کی تلافی بھی کی جائے۔

اپیل کورٹ نے کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ آجر نے مدعی کے خلاف ہروب کی جو رپورٹ درج کرائی ہے وہ جھوٹی ہے۔ عدالت نے جھوٹی رپورٹ منسوخ کرتے ہوئے سابقہ فیصلے کو بھی مسترد کردیا۔

مدعی نے 10 لاکھ ریال معاوضے کا مطالبہ کیا تھا تاہم عدالت نے ہروب کی غلط رپورٹ سے نقصانات، عدالتی اخراجات اور واجبات پر مقیم غیرملکی کے حق میں ایک لاکھ 80 ہزار ریال کا فیصلہ سناتے ہوئے آجر کو یہ معاوضہ ادا کرنے کا حکم بھی دیا ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں