پاناما کیس، پی ٹی آئی کا ملک گیر جلسے کرنے کا ARYNews.tv Breaking News
The news is by your side.

Advertisement

پاناما کیس، پی ٹی آئی کا ملک گیر جلسے کرنے کا فیصلہ

لاہور: تحریک انصاف نے پاناما کیس کے معاملے پر ملک گیر جلسوں کا فیصلہ کرلیا، پی ٹی آئی سندھ، پنجاب اور کے پی کے میں جلسے منعقد کرے گی، اگلی سماعت سے قبل دو جلسے ہوں گے، احتجاجی تحریک کا آغاز اگلے ہفتے پشاور میں جلسے سے ہوگا۔

اطلاعات کے مطابق تحریک انصاف نے پاناما کیس کو ایک بار پھر عوام میں لے جانے کا فیصلہ کرتے ہوئے دوبارہ احتجاجی تحریک اور جلسوں کا فیصلہ کرلیا۔

ذرائع کے مطابق ملتان، لودھراں، فیصل آباد، سیالکوٹ، گوجرانوالہ، ٹوبہ ٹیک سنگھ،راولپنڈی، سرگودھا خوشاب اور میاں والی میں جلسے کیے جائیں گے، پہلا جلسہ اگلے ہفتے پشاور میں ہوگا، اگلی سماعت سے قبل دو جلسے ہوں گے  تاہم شیڈول میں لاہور کا جلسہ شامل نہیں ہے۔

ذرائع نے بتایا کہ احتجاجی جلسوں کا پلان تیار کرلیا گیا تاہم پلان کی حتمی منظوری آئندہ ہفتے پارٹی کے مرکزی قائدین کی مشاورت سے ہوگی۔

اس حوالے سے تحر یک انصاف کے وائس چیئرمین شاہ محمود قر یشی نے کہا ہے کہ تحر یک انصاف 17 جنوری سے پہلے 2 مقامات پر ”عوامی عدالت ”لگائے گی ،سپر یم کورٹ پاناما کیس میں جو بھی فیصلہ کر ے گی وہ ہمیں قبول ہوگا مگر اس معاملے پر ہم کمیشن نہیں چاہتے، پیپلز پارٹی کے چار مطالبات کی حمایت کرتے ہیں۔

لاہور میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے شاہ محمود قر یشی نے کہا کہ عدالت میں کل نواز شریف کے حق میں ایسے نعرے لگائے گئے جیسے وہ جیت گئے ہوں، پیپلز پارٹی کے 4 مطالبات مصدقہ اور قابل احترام ہیں، اس معاملے پر ان کے ساتھ ہوں۔

انہوں نے کہا کہ حکومت نے عدالت کو کمیشن بنانے کیلئے کیس بھیجا تھا لیکن عدالت نے حکومت کا مؤقف رد کر دیا تھا۔ ہم پارلیمینٹ میں گئے اور 7 ماہ حکومت سے ٹی او آرز پر مذاکرات کئے لیکن حکومت نہیں مانتی تھی کیونکہ صرف ٹائم گیم کھیلا جا رہا تھا۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ہمارا مؤقف ہے کہ پانامہ لیکس پر دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو۔ ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ نعیم بخاری نے حکومتی دستاویزات سے ثابت کر دیا ہے کہ شریف خاندان جھوٹ بول رہا ہے۔

رہنما پی ٹی آئی نے کہا کہ قطری شہزادے کے خط کی کیا اہمیت تھی یہ معاملہ سپریم کورٹ میں واضح ہو گیا ۔ وزراءاسمبلی نہیں آتے لیکن عدالت ضرور آتے ہیں، حکومت ناکام ہو چکی ہے اور کوئی بھی ادارہ فعال نہیں ہے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں