The news is by your side.

شہباز گل کی پیشی کے دوران صحافیوں کی عدالت داخلے پر پابندی معمہ بن گئی

اسلام آباد: پی ٹی آئی رہنما شہباز گل کی پیشی کے دوران صحافیوں کی عدالت داخلے پر پابندی معمہ بن گئی۔

تفصیلات کے مطابق اسلام آباد ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ میں بغاوت پر اکسانے سے متعلق کیس میں شہباز گل کی پیشی کے دوران پولیس نے عدالت کے نام پر صحافیوں کو اندر داخل ہونے سے روک دیا تھا۔

اسلام آباد ہائیکورٹ جرنلسٹس ایسوسی ایشن نے یہ معاملہ جوڈیشل مجسٹریٹ کے سامنے اٹھا دیا، مختلف چینلز سے تعلق رکھنے والے کورٹ رپورٹرز عدالت کے سامنے پیش ہو گئے۔

نشریات کی بندش کے باعث اے آر وائی نیوز کی لائیو ٹرانسمیشن یہاں دیکھیں

جوڈیشل مجسٹریٹ عمر شبیر نے کہا ہماری طرف سے میڈیا پر کوئی پابندی نہیں لگائی گئی، اوپن کورٹ میں بھی ملزم کے وکیل کو کہا ہم نے کوئی پابندی نہیں لگائی۔

صدر ہائی کورٹ جرنلسٹس ایسوسی ایشن ثاقب بشیر نے کہا میں سیشن جج کے آفس سے ہو کر آیا ہوں، انھوں نے بھی کہا ہے کہ ایسی کوئی پابندی نہیں لگائی گئی، لیکن پولیس نے آپ کا نام استعمال کر کے صحافیوں کو عدالت داخلے سے روکا، اس لیے استدعا ہے کہ آئندہ سماعت کے لیے ضروری آرڈر کر دیں تاکہ پھر ہمیں نہ روکا جائے۔

جوڈیشل مجسٹریٹ نے کہا ہماری طرف سے نہ پہلے پابندی لگائی گئی نہ آگے ہوگی۔

خیال رہے کہ ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ اسلام آباد میں آج بدھ کو شہباز گل کے خلاف بغاوت پر اکسانے سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی، عدالت نے شہباز گل کا 2 روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کرتے ہوئے انھیں پولیس کے حوالے کر دیا۔

اسلام آباد پولیس کی جانب سے شہباز گِل کے 14 روزہ جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی گئی تھی جب کہ شہباز گل کے وکیل فیصل چوہدری نے جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی مخالفت کی۔

شہباز گل کی عدالت میں پیشی، جسمانی ریمانڈ منظور

پولیس کی جانب سے مؤقف اختیار کیا گیا کہ شہباز گل سے ان کا موبائل فون برآمد ہوا اور جس پیپر سے دیکھ کر وہ بول رہے تھے، وہ برآمد کرنا ہے اور اس بارے میں تفتیش کرنی ہے کہ پروگرام کس کے کہنے پر ہوا۔

واضح رہے کہ شہباز گل پر تھانہ کوہسار میں اداروں کے خلاف مبینہ غداری سمیت سنگین نوعیت کے 10 مقدمات درج ہیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں