The news is by your side.

Advertisement

سچ ہے ہمیں کو آپ کے شکوے بجا نہ تھے

سچ ہے ہمیں کو آپ کے شکوے بجا نہ تھے
بے شک ستم جناب کے سب دوستانہ تھے

ہاں جو جفا بھی آپ نے کی قاعدے سے کی
ہاں ہم ہی کاربند اصول وفا نہ تھے

آئے تو یوں کہ جیسے ہمیشہ تھے مہرباں
بھولے تو یوں کہ جیسے کبھی آشنا نہ تھے

کیوں داد غم ہمیں نے طلب کی برا کیا
ہم سے جہاں میں کشتۂ غم اور کیا نہ تھے

گر فکر زخم کی تو خطاوار ہیں کہ ہم
کیوں محو مدح خوبی تیغ ادا نہ تھے

ہر چارہ گر کو چارہ گری سے گریز تھا
ورنہ ہمیں جو دکھ تھے بہت لا دوا نہ تھے

لب پر ہے تلخی مئے ایام ورنہ فیضؔ
ہم تلخی کلام پہ مائل ذرا نہ تھے

*********

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں