The news is by your side.

Advertisement

حکومت سندھ کا صوبے کی تمام لائبریریز کو ڈیجٹلائز کرنے پر غور

کراچی: حکومتِ سندھ نے لائبریریوں کو ڈیجیٹلائز کرنے کے منصوبے پر غور شروع کردیا، وزیر تعلیم سردار شاہ نے کہا ہے کہ کراچی میں لائبریریوں کی تعداد کم ہے جسے بڑھایا جاسکتا ہے۔

تفصیلات کے مطابق سندھ اسمبلی اجلاس محکمہ ثقافت وسیاحت سےمتعلق وقفہ سوالات کے دوران وزیرتعلیم نے ایوان کو صوبے کی لائبریریوں کے حوالے سے آگاہ کیا۔ انہوں نے بتایا کہ سندھ مختلف اضلاع میں محکمہ ثقافت کی23لائبریریاں ہیں، جن میں سے کراچی میں3،حیدرآبادمیں 2اور لاڑکانہ میں 3لائبریریاں موجود ہیں ساتھ انہوں نے یہ بھی تسلیم کیا کہ کراچی میں لائبریوں کی تعداد کم ہے۔

گرینڈ ڈیموکریٹ الائنس کی رکن نصرت سحر عباسی نے مطالبہ کیا کہ لائبریریوں میں انٹرنیٹ کی سہولت ہونی چاہیے جبکہ محمد حسین نے کراچی میں لائبریریوں کی کم تعداد پر شکوہ بھی کیا۔ اُن کا کہنا تھا کہ 3 کروڑ کی آبادی والے شہر میں صرف تین لائبریریاں ہیں۔

مزید پڑھیں: جدید ٹیکنالوجی ’’ لائبریریز ‘‘ کو ویران کرنے کی ذمہ دار

وزیر تعلیم سردار شاہ کا کہنا تھا کہ اس بات میں کوئی شک نہیں کراچی میں تعداد کم ہے، محکمہ ثقافت لائبریریوں کی تعداد بڑھانا چاہتا ہے، ٹیکنالوجی کادورہےبچوں کوانٹرنیٹ دیں لاکھوں کتب ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ سندھ حکومت کتابوں اور لائبریریز کو ڈیجٹلائز کرنے کا منصوبہ جلد شروع کرنے جارہی ہے۔ رکن اسمبلی محمد حسین نے مطالبہ کیا کہ  آئندہ مالی سال کے بجٹ میں لائبریریوں کی اسکیم بنائی جائے۔

واضح رہے کہ ایک وقت میں شہر قائد میں موجود لائبریریز کی تعداد 30 کے قریب تھی جہاں سے طالب علم اور مطالعے کا ذوق رکھنے والے افراد استفادہ کرتے تھے مگر وقت کے ساتھ ساتھ اُن کی تعداد میں نمایاں کمی دیکھنے میں آئی۔

کراچی کی قابلِ ذکر لائبریریاں

شہر قائد میں قائم فریئر ہال میں موجود لیاقت لائبریری 1865 میں قائم ہوئی جہاں قیمتی اور اہم تصانیف موجود ہیں، حکومتی توجہ نہ ہونے کی وجہ سے کتابوں اور الماریوں کو دیمک لگ چکا ہے۔

اسی طرح کراچی کی ایک اور محمود حسن لائبریری 1952 میں قائم ہوئی جہاں اس وقت بھی ساڑھے تین لاکھ سے زائد قیمتیں کتابیں موجود ہیں، اسی طرح ڈیفنس سینٹرل لائبریری جو برطانوی سفارت خانے میں موجود ہے یہاں بھی مختلف موضوعات کی 70 ہزار سے زائد تصانیف موجود ہیں۔

شہر کے کتب خانے کیوں ویران ہوئے؟

لائبریریز کے بھوت بنگلے جیسا منظر پیش کرنے کی سب سے بڑی وجہ قارئین کی تعداد کا کم ہونا ہے کیونکہ بیشتر کتب خانوں کی انتظامیہ کتاب کے کرائے کے عوض جمع ہونے والی رقم سے ہی مرمت اور نئی تصانیف خریدنے کا کام کرتی تھیں، اب اکثر صارفین انٹرنیٹ کے ذریعے موبائل یا کمپیوٹر پر ہی اپنی متعلقہ کتاب کا مطالعہ باآسانی کرلیتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: حسرت موہانی لائبریری عوام کے لیے کھول دی گئی

نامور سینئر صحافی اختر بلوچ کا کہنا تھا کہ ’علمی مطالعے یا تحقیق کے لیے جن کتابوں یا مواد کی ضرورت ہوتی ہے وہ باآسانی موبائل فون کی مدد سے مل جاتا ہے، جدید دور کی وجہ سے لوگوں کی کتب خانوں میں آمد ورفت کم ہوگئی اور آہستہ آہستہ لائبریرز کی تعداد بھی وقت کے ساتھ کم ہوتی گئی‘۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں