The news is by your side.

Advertisement

“اسلام آباد میں بیٹھ کر کراچی کے اسپتال نہیں چلائے جا سکتے”

کراچی: وفاقی حکومت نے کراچی کے تین بڑے اسپتالوں کو تحویل میں لینے کا عمل شروع کر دیا ہے جبکہ صوبائی وزیر صحت نے الزام عائد کیا ہے کہ اسلام آباد میں بیٹھ کر کراچی کے اسپتال نہیں چلائے جا سکتے۔

تفصیلات کے مطابق وفاقی حکومت نے کراچی کے تین بڑے اسپتالوں کو تحویل میں لینے کا عمل شروع کردیا ہے، وفاقی حکومت نے جناح، این آئی سی وی ڈی اور این آئی سی ایچ کے بورڈ آف گورنرز تشکیل دینا شروع کر دیئے ہیں۔

وزیراعظم کے معاون خصوصی ڈاکٹر فیصل سلطان کا کہنا ہے کہ سندھ کی وزیر صحت سے بورڈ آف گورنرز کے لیے نام طلب کیے، ہم چاہتے ہیں کہ اسپتالوں کو چلانے کے لیے موزوں اور غیر متنازعہ لوگ تعینات کریں۔

سندھ کی وزیر صحت ڈاکٹر عذرا پیچوہو نے اس اقدام کو کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ محکمہ صحت سندھ کو بورڈ آف گورنرز کے لئے دو لوگوں کے نام دینے کو کہا گیا، ہم یہ نام نہیں دیں گے کیونکہ ہم ان کی وفاقی تحویل کے خلاف ہیں، اسلام آباد میں بیٹھ کر کراچی کے اسپتال نہیں چلائے جا سکتے۔

یہ بھی پڑھیں:  جناح اسپتال کے معاملے پر وفاق اور سندھ ایک بار پھر آمنے سامنے

صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر عذرا پیچوہو کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت کا میڈیکل ٹیچنگ انسٹیٹیوٹ آرڈیننس ہر جگہ ناکام ہوا ہے، اس کے باوجود وفاقی حکومت اپنی مینجمنٹ لاکر کراچی کے اسپتالوں تحویل میں لینے جارہی ہے، وہ توہین عدالت کے خوف سے یہ کر رہے ہیں لیکن مریضوں کا نقصان ہوگا۔

ترجمان محکمہ صحت سندھ کا کہنا ہے کہ تینوں اسپتالوں کا معاملہ سپریم کورٹ میں ہے، عدالتی فیصلے سے قبل اسپتالوں پر فیصلہ مؤثرنہیں ہوگا۔؎

ترجمان کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت پر اسپتالوں کے100بلین روپے واجبات ہیں ، تینوں اسپتالوں پر سندھ حکومت نے اخراجات ادا کئے ہیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں