The news is by your side.

Advertisement

پیپلز پارٹی کے اقدامات اور بیانات میں کھلا تضاد

کراچی: سندھ ہاؤس میں حکومتی اراکین کو چھپانے کے حوالے سے پاکستان پیپلز پارٹی کے بیانات اور اقدامات میں کھلا تضاد سامنے آیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق پیپلز پارٹی کا پرانا مؤقف تھا کہ سندھ ہاؤس میں کوئی حکومتی رہنما موجود نہیں ہے، جب کہ درجنوں حکومتی ارکان کی سندھ ہاؤس میں موجودگی پر مبنی اے آر وائی نیوز کی خبر نے اس دعوے کا بھانڈا پھوڑا، جس کی وجہ سے اپوزیشن کو سندھ ہاؤس میں چھپائے گئے حکومتی اراکین میڈیا پر لانا پڑے۔

یوسف رضا گیلانی نے چندگھنٹے پہلے ہی حکومتی ارکان کی موجودگی کو مسترد کیا تھا، جب کہ فیصل کریم کنڈی نے صرف پیپلز پارٹی کے ارکان کے لیے انتظامات کا بیان دیا تھا، ان کا پرانا مؤقف تھا کہ کوئی حکومتی رکن سندھ ہاؤس میں موجود نہیں ہے۔

’سیاست میں ’لوٹا‘ کیا ہوتا ہے؟‘ اینکر کے سوال پر راجہ ریاض کا دلچسپ جواب

خیال رہے کہ سندھ ہاؤس میں مسلم لیگ ن کی ترجمان مریم اورنگزیب نے حکومتی اراکین کے انٹرویوز ارینج کرائے، اس سلسلے میں سامنے آنے والی فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ مریم اورنگزیب اور عطا تارڑ بھی سندھ ہاؤس میں موجود ہیں۔

اے آر وائی نیوز کی خبر کے بعد آخر کار سندھ ہاؤس میں موجود پی ٹی آئی ارکان سامنے آ ہی گئے، وزیر اعظم نے گزشتہ روز اپنے خطاب میں اس کا راز کھولا تھا، راجہ ریاض نے میڈیا پر آ کر حکومت کو پارلیمانی پارٹی کا اجلاس بلانے کا چیلنج بھی دے دیا ہے۔

شیخ رشید اور فواد چوہدری بھی جلد سیاسی وفاداری تبدیل کر دیں گے: سعید غنی

انھوں نے کہا 2 درجن ایم این ایز کم نہ ہوں تو میں ذمہ دار ہوں، کسی نے پیسہ نہیں دیا، ہم نے ضمیر کے مطابق ووٹ دینا ہے، میں نے محسوس کیا کہ جو واقعہ لاجز میں ہوا، وہ ہمارے ساتھ بھی ہو سکتا ہے، اینکر کاشف عباسی نے سوال کیا کہ ضمیر اب یاد آیا، ڈھائی سال سے کیا کر رہے تھے؟ عمران خان کی پالیسی سے اختلاف ہے تو 6 ماہ پہلے مستعفی کیوں نہیں ہوئے؟ راجہ ریاض نے جواب دیا کہ عمران خان نے پہلی مرتبہ ارکان پارلیمنٹ کو گرفتار کرایا، ہمیں مہنگائی اور کرپشن کے خلاف عمران خان کی پالیسیوں سے اختلاف ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں