خیبر پختونخوا: اسٹیج گلو کارہ ریشم خان کو شوہر نے گولی مار دی -
The news is by your side.

Advertisement

خیبر پختونخوا: اسٹیج گلو کارہ ریشم خان کو شوہر نے گولی مار دی

نوشہرہ: خیبر پختونخوا کے ضلع نوشہرہ میں پشتو کی اسٹیج اداکارہ اور گلو کارہ ریشم خان کو ان کے شوہر نے گولی مار دی، گلو کارہ نے موقع پر ہی دم توڑ دیا۔

تفصیلات کے مطابق کے پی کے ضلع نوشہرہ سے تعلق رکھنے والی اسٹیج گلو کارہ ریشم خان گولی لگنے سے جاں بحق ہوگئیں، گولی مارنے والا شوہر فرار ہو گیا، مقتولہ اسٹیج پر اداکاری بھی کرتی تھیں۔

پولیس کا کہنا ہے کہ 35 سالہ جواں سال گلوکارہ ریشم خان کو ایک گھریلو جھگڑے کے نتیجے میں شوہر فائدہ خان نے پستول نکال کر گولی ماری، پولیس نے شوہر کے خلاف مقدمہ درج کر لیا۔

مقامی تھانے میں مقتولہ کے بھائی عبید اللہ کی رپورٹ پر درج کی گئی ایف آئی آر کے مطابق میاں بیوی کے درمیان ناچاقی تھی، راضی نامہ بھی ہوا تھا، ملزم فائدہ خان حال ہی میں بیرون ملک سے واپس آیا تھا۔

گلوکارہ کے بھائی نے پولیس کو بتایا کہ رحیم آباد کا رہائشی فائدہ خان بیوی کے ساتھ جھگڑے کی وجہ سے بیرون ملک کام کرنے چلا گیا تھا، حال ہی میں واپس آ کر شوہر نے اپنی بیوی کو بیمار باپ کی عیادت کے لیے جانے پر راضی کیا، جب وہ واپس نہیں آئے تو بھائی نے پولیس میں رپورٹ درج کرادی۔

ریشم خان مقبول اسٹیج گلو کارہ اور اداکارہ تھیں، ریشم نے نہ صرف ملک کے اندر بلکہ بیرون ملک بھی اسٹیج پرفارمنس میں نام کمایا۔

علاقے میں کام کرنے والی ایک این جی او کے جمع کردہ اعداد و شمار کے مطابق یہ 2018 میں خیبر پختونخوا میں عورتوں کے خلاف ہونے والی بیسویں پُر تشدد کاروائی ہے۔

مردان: اسٹیج اداکارہ سنبل خان قاتلانہ حملے میں جاں بحق

واضح رہے کہ رواں سال فروری میں مردان میں بھی ایک گلو کارہ کو ایک نجی تقریب میں شرکت سے انکار کرنے پر گولی مار کر قتل کر دیا گیا تھا۔

یہ نہایت افسوس ناک امر ہے کہ خیبر پختونخوا میں خاتون گلو کاراؤں اور اداکاراؤں پر قاتلانہ حملے تسلسل کے ساتھ ہو رہے ہیں اور حالیہ واقعہ بھی انھی میں سے ایک ہے۔

اسٹیج گلوکارہ کا قتل: اہل خانہ کا لاش سمیت لاڑکانہ پریس کلب پرمظاہرہ

2009 میں پشاور میں بھی ایک افسوس ناک واقعہ اس وقت پیش آیا جب ایمن اداس نامی ابھرتی ہوئی خاتون صدا کار کو اس کے بھائیوں نے گھر میں قتل کر دیا تھا۔

خیبر پختونخوا میں فنون لطیفہ سے تعلق رکھنے والی خواتین کی زندگی ہر وقت خطرے سے دوچار رہتی ہے، تاہم مقامی انتظامیہ نے اس سلسلے کو روکنے کے لیے کوئی ٹھوس اقدامات نہیں کیے۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں۔ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں