The news is by your side.

Advertisement

سر جارج ایورسٹ! جن کے نام پر دنیا کی بلندچوٹی کا نام تجویز کیا گیا، کون تھے؟

دنیا کی بلند ترین چوٹی ماؤنٹ ایورسٹ کا نام تو سب سے سن رکھا ہے کیا آپ جانتے ہیں کہ اس بلندترین پہاڑ کا نام معروف جغرافیہ دان ’سر جارج ایورسٹ‘ کے نام پر رکھا گیا ہے جنہوں نے پہاڑ سر کرنا تو دور ایورسٹ کو دیکھا تک نہیں ہے۔

جی ہاں! ماؤنٹ ایورسٹ کا نام جغرافیہ دان سرجارج ایورسٹ کے نام پر ضرور رکھا گیا ہے لیکن انہوں نے کبھی اس بلندترین چوٹی کو نہیں دیکھا، نیپال اور تبت کے اس پہاڑی سلسلے کا نام سرویئر جنرل آف انڈیا اینڈریو اسکاٹ وا نے تجویز کیا تھا جو اس پہاڑ کو دیکھنے والے پہلے یورپی تھے۔

میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ سویئر جنرل آف انڈیا کی جانب سے 1865 میں جیوگرافیکل سوسائٹی کو تحریری طور پر یہ تجویز پیش کی گئی تھی کہ نیپال میں واقع بلند ترین چوٹی کا نام ’سرجارج ایورسٹ‘ نام پر ماؤنٹ ایورسٹ رکھا جائے، جسے جیوگرافیکل سوسائٹی کی جانب سے قبول کرلیا گیا۔

واضح رہے کہ سرجارج ایورسٹ سرویئر جنرل آف انڈیا رہ چکے ہیں جنہیں 1861 میں ’سر‘ کے خطاب سے نوازا گیا تھا، یہی وجہ ہے کہ سر ایورسٹ کی اینڈریو اسکاٹ کے کام پر کافی گہرے اثرات ہیں جس کی بدولت انہوں نے اس پہاڑ کا نام تجویز کیا۔

ویسے تو اس پہاڑ کو کوئی مقامی نام دینا تھا لیکن تبت اور نیپال میں اسے الگ الگ نام دئیے گئے ہیں جیسے نیپال میں اسے ’ساگرماتھا‘ یعنی آسمان کی پیشانی کہا جاتا ہے جب کہ تبت چین میں اس پہاڑ کو ’چومولنگما‘ پکارا جاتا ہے۔

مقامی ناموں کے ہونے کے باوجود ایسے شخص کے نام پر پہاڑ کا نام تجویز کرنا جس نے کبھی دنیا کی بلند ترین چوٹی کو دیکھا تک نہ ہو عجیب ہے مگر حقیقت یہی ہے کہ اب وہ پہاڑ ایورسٹ کے نام سے ہی مشہور ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں