The news is by your side.

Advertisement

زمین پر مصنوعی چھتری پھیلانے کا منصوبہ

ہماری زمین اس وقت عالمی حدت میں اضافے یعنی گلوبل وارمنگ کے خطرے کا شکار ہے جو زمین پر زندگی کے خاتمے کا سبب بھی بن سکتا ہے، لہٰذا اسی خطرے کو دیکھتے ہوئے ماہرین نے سولر جیو انجینیئرنگ یعنی سورج کی روشنی کو واپس بھیجنے کا منصوبہ پیش کیا ہے۔

سائنسی جریدے نیچر میں شائع ہونے والے ایک تحقیقاتی مقالے کے مطابق اس تکنیک کے تحت کئی منصوبے سامنے لائے جاسکتے ہیں تاہم فی الوقت زیر غور منصوبہ فضا میں مصنوعی چھتری پھیلانے کا ہے۔

مزید پڑھیں: گلوبل وارمنگ کم کرنے کے طریقے

اس منصوبے کے تحت جہازوں کے ذریعے فضا میں سلفر کے ذرات پھیلا دیے جائیں گے جو سورج کی شعاعوں کو منعکس کر کے واپس بھیج دیں گے۔

یہ منصوبہ ایسا ہی ہے جیسے بہت بڑا آتش فشاں پھٹنے کے بعد اس سے خارج ہونے والی راکھ فضا میں پھیل جاتی ہے جس کے بعد اس مخصوص مقام پر سورج کی حرارت اور شعاعیں کم مقدار میں پہنچتی ہیں۔

تحقیق کے مرکزی مصنف عتیق الرحمٰن کا کہنا ہے کہ فی الحال یہ منصوبہ ناقابل عمل اور پاگل پن لگتا ہے لیکن اس پر زور و شور سے تحقیق سے جاری ہے۔

انہوں نے یہ بھی اعتراف کیا کہ ابھی وہ اندھیرے میں ہیں کہ آیا یہ تکنیک فائدہ مند ثابت ہوگی یا نقصان دہ۔

تحقیق کے پہلے مرحلے میں 4 لاکھ ڈالر مختص کیے گئے ہیں جو سائنسدانوں کو دیے جائیں گے تاکہ وہ اپنی تحقیقات پیش کریں۔

مزید پڑھیں: گلوبل وارمنگ سے مطابقت کا انوکھا طریقہ

علاوہ ازیں یہ رقم ترقی پذیر ممالک کے سائنس دانوں کو بھی دی جائے گی تاکہ وہ جیو انجینیئرنگ کے مقامی سطح پر پڑنے والے اثرات کا مطالعہ کریں۔

اس مطالعے میں دیکھا جائے گا کہ جیو انجینیئرنگ خشک سالی، سیلاب اور بارشوں پر کیا اثرات مرتب کرتی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر اس منصوبے کو کامیابی سے جامہ تکمیل پہنا دیا گیا اور یہ فائدہ مند ثابت ہوا تو زمین کے درجہ حرارت کو قابو کرنے میں خاصی مدد دے گا۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں۔ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں