site
stats
انٹرٹینمںٹ

مسلمان نہیں پھر بھی اذان کی وجہ سے صبح اٹھنا پڑتا ہے، سونو نگم

نئی دہلی : بالی ووڈ کے معروف سنگر سونو نگم نے مسلمانوں کیخلاف نفرت کی انتہا کردی ، سونو نگم کا کہنا ہے کہ مسلمان نہیں ہون ، پھر بھی ان کو اذان کی آواز کی وجہ سے صبح اٹھنا پڑتا ہے، زبردستی مذہب مسلط کرنا ختم ہونا چاہئے۔

بھارت میں مسلمان پہلے ہی محفوظ نہیں وہیں اب مسلمانوں کو ان کے مذہبی حقوق سے محروم کرنے کے لئے بھارتی سنگر نےاسلام کے خلاف زہر اگلنا شروع کر دیا اور بھارتی انتہا پسندؤں کو مسلمانوں پر ظلم کرنے کی نئی وجہ بھی مہیا کر دی ہے۔

معروف بھارتی سنگر سونونگم نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں کہا کہ  میں مسلمان نہیں ہوں پھر بھی مجھے صبح اذان کی آواز سے اٹھنا پڑتا ہے، زبردستی مذہب مسلط کرنا ختم ہونا چاہئے۔

انہوں نے مذہب کی زبردستی قرار دیااور کہا کہ مذہبی اداروں کو ان لوگوں کے حقوق کا بھی خیال رکھنا چاہئے جو کہ مذہب نہیں مانتے ہیں۔

انہوں نے یہ بھی ٹویٹ کیا کہ جب اسلام کا ظہور ہوا تھا ، اس وقت تو بجلی نہیں تھی۔

ساتھ ساتھ کسی بھی مذہب میں لاؤڈ اسپیکر کے استعمال پر بھی انہوں نے اپنی پریشانی کا اظہار کیا۔

سونگم نے تمام حدیں عبور کرتے ہوئے مسلمانوں کے مذہبی حق کو غنڈہ گردی سے بھی جوڑ دیا۔

سونو نگم کی جانب سے ازان کی پابندی کے مطالبے کے بعد ٹوئٹر صارفین نے انکو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔

ایک صارف کا کہنا تھا کہ میں تمہارا پرستار ہوں لیکن یہ یقینی فضول بیان تھا، آپ کو دیگر مذاہب کے عقائد کا احترام کرنا ہوگا، یہ ایک جمہوری ملک ہے۔

ایک صارف کا ملک میں ہندو مذہبی رسومات کے بارے میں کہنا تھا کہ میں ایک ہندو ہوں لیکن کیا غیر ہندوؤں کو بھی یہی مشکل درپیش نہیں آتی ہوگی ، جب  ہم نوراتری اور گنیش جلوس کے لئے لاوڈسپیکرز کا استعمال کرتے ہیں۔

بھارت ایک مضبوط سیکولر ریاست ہونے کے بارے میں بات کرتے ہوئے ایک صارف نے لکھا کہ بھارت ایک سیکولر ملک ہے، ہمیں ایسی باتیں نہیں کرنی چاہئے، یہاں بہت سے مسلمان ہے کیا انھیں نماز کیلئے نہیں جانا چایئے کیونکہ آپ کو پریشانی ہوتی ہے۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top