The news is by your side.

Advertisement

عراق کا تباہ حال شہر موصل موسیقی کے سروں سے گونج اٹھا

موصل: عراق کے جنگ سے شدید متاثر تباہ حال شہر موصل میں وائلن کی پرفارمنس پیش کی گئی جسے دیکھنے کے لیے ہزاروں لوگ امڈ آئے۔

عراق کے معروف وائلن ساز کریم واصفی نے کھنڈرات میں تبدیل ہو جانے والے شہر موصل میں اپنی پرفارمنس پیش کی۔ اپنی اس پرفارمنس کو انہوں نے ’امن‘ سے منسوب کیا۔

کنسرٹ میں کریم واصفی کے ساتھ ایک مقامی میوزک بینڈ نے بھی شرکت کی اور موصل کا ملبہ شدہ شہر موسیقی کے سروں سے گونج اٹھا۔

واصفی کا کہنا تھا کہ یہ موسیقی موصل کی طرف سے دنیا کے لیے امن کا پیغام ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ دنیا کے لیے ایک پیغام ہے کہ موصل میں جنگ ختم ہوچکی، اب آئیں اور موصل کی تعمیر نو میں عراقیوں کا ساتھ دیں۔

خیال رہے کہ عالمی دہشت گرد تنظیم داعش نے سنہ 2014 میں موصل پر حملہ کرنے کے بعد 3 سال تک یہاں اپنا قبضہ جمائے رکھا۔

اس دوران داعش اور ان کے خلاف برسر پیکار فوجوں کے درمیان خونریز جھڑپوں میں شہر ملبے کے ڈھیر میں تبدیل ہوگیا جبکہ سینکڑوں افراد نے اپنی جانیں گنوائیں۔

ان 3 سالوں میں 10 لاکھ افراد نے یہاں سے ہجرت کی۔

سنہ 2017 میں عراقی اور اتحادی افواج نے بالآخر داعش کو شکست دی اور شہر کو ان کے قبضے سے چھڑانا شروع کیا جس کے بعد یہاں سے جانے والے واپس لوٹنا شروع ہوگئے۔

جنگ ختم ہونے کے بعد عراق کا یہ خوبصورت شہر اب ملبے کی شکل اختیار کرچکا ہے۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں۔ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں