The news is by your side.

Advertisement

معاون خصوصی ڈاکٹر ظفرمرزا نے بھی استعفیٰ دے دیا

اسلام آباد: وزیر اعظم عمران خان کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا نے بھی استعفیٰ دے دیا، ذرایع نے کہا ہے کہ وہ ادویات کی قیمتوں کے معاملے پر الزام کی زد پر تھے۔

اے آر وائی نیوز کے مطابق وزیر اعظم کے معاون خصوصی ڈاکٹر ظفر مرزا بھی اپنے عہدے سے مستعفی ہو گئے ہیں، وزیر اعظم عمران خان نے ادویات کی قیمتیں بڑھنے پر انکوائری کی ہدایت کی تھی۔

ڈاکٹر ظفر مرزا نے کہا ہے کہ میں عمران خان کے کہنے پر پاکستان آیا تھا، ایمان داری اور محنت سے کام کیا ہے، پاکستان کے لیے کام کرنا میرے لیے باعث اعزاز ہے۔

وزیر اعظم کی معاون خصوصی تانیہ ایدروس نے استعفیٰ دے دیا

انھوں نے ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ میں نے معاون خصوصی کےعہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے، میں مطمئن ہوں کہ ایسے وقت میں عہدہ چھوڑا جب پاکستان میں کرونا کم ہو رہا ہے۔

واضح رہے کہ ایک ہی دن میں وزیر اعظم عمران خان کے 2 معاونینِ خصوصی عہدوں سے مستعفی ہو گئے ہیں، اب سے کچھ ہی دیر قبل ڈیجیٹل پاکستان کی سربراہ تانیہ ایدروس نے بھی ٹویٹ کے ذریعے خبر دی تھی کہ انھوں نے استعفیٰ دے دیا ہے، تانیہ ایدروس کی کمپنی ڈیجیٹل پاکستان کے خلاف بھی انکوائری چل رہی تھی۔

ذرایع کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم عمران خان نے ادویات کی قیمتیں بڑھنے پر انکوائری کی ہدایت کی تھی، ڈاکٹر ظفر مرزا ادویات کی قیمتوں کے معاملے پر الزام کی زد میں تھے، ظفر مرزا نے ادویات کی قیمتیں بڑھنے کے معاملے پر استعفیٰ دیا۔

ڈاکٹر ظفر مرزا کا ٹویٹ میں کہنا ہے کہ وہ معاون خصوصی کے کردار پر منفی تنقید کی وجہ سے مستعفی ہوئے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ پاکستان کے عوام بہتر صحت کی سہولتوں کے مستحق ہیں، شعبہ صحت میں بہتری کے لیے مخلصانہ کاوشیں کیں، انشاءاللہ بہتر نظام صحت کے باعث کرونا سے جلد چھٹکارا حاصل کرلیں گے۔

رواں برس مئی میں وزیر اعظم عمران خان نے بھارت سے ادویات برآمد کرنے کے معاملے پر ڈاکٹر ظفر مرزا کے اختیارات میں کمی کر دی تھی، ڈاکٹر ظفر مالی اور انتظامی سمریوں کی منظوری کے بغیر احکامات جاری کرتے رہے تھے، وزیر اعظم نے لائف سیونگ ڈرگز کی آڑ میں بھارت سے معمول کی دوائیں اور وٹامنز درآمد کرنے کے معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے تحقیقات کا حکم بھی دیا تھا۔

یاد رہے کہ 18 اپریل 2019 کو وزیر اعظم نے وفاقی کابینہ میں رد و بدل کرتے ہوئے ڈاکٹر ظفر مرزا کو معاون خصوصی برائے قومی صحت مقرر کیا تھا، جب کہ 23 اپریل کو انھوں نے امور قومی صحت کا چارج سنبھالا تھا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں