The news is by your side.

Advertisement

شخصیت سے متعارف کروانے والے رنگین پتھر

اسکول صرف تعلیم حاصل کرنے اور نصابی کتابیں پڑھنے کی جگہ نہیں بلکہ یہ مقام زندگی کے ہر دور میں سامنے آنے والی مشکلات اور مسائل کا سامنا کرنا اور ان کا حل تلاش کرنا سکھاتا ہے۔

کسی شخص کی زندگی میں آنے والی کامیابیوں میں اس کے اساتذہ کا بھی کردار ہوتا ہے کہ وہ انہیں دوران تعلیم کیا سکھاتا ہے اور کیسے سکھاتا ہے۔

امریکی ریاست انڈیانا میں بھی ایک اسکول میں ایسی ہی ایک آرٹ ٹیچر نہایت دلچسپ انداز میں بچوں کو ان کی شخصیت سے متعارف کروا رہی ہیں۔

جیسیکا موئز نامی اس ٹیچر نے امریکی مصننف لنڈا کرانز کی کتاب ’صرف تم‘ کے خیال پر ایک نہایت انوکھا پروجیکٹ تخلیق کیا۔

دراصل یہ کتاب ایک ننھی مچھلی کے بارے میں ہے جو اپنے بل بوتے پر پورے سمندر کی خاک چھانتی ہے۔

اس کے والدین اسے سبق دیتے ہیں کہ اپنے نئے دوستوں سے چوکنا رہو اور اسے نصیحت کرتے ہیں کہ وہ اپنا راستہ خود تلاش کرے یہ سوچے بغیر کہ اس کے آس پاس موجود تمام لوگ کہاں جا رہے ہیں۔

کتاب کا مرکزی خیال بچوں کو یہ احساس دلانا ہے کہ ہر بچہ اپنی ذات میں مکمل اور منفرد ہے۔

یہ آرٹ ٹیچر اپنے طلبا کو یہ کتاب پڑھ کر سناتی ہیں اور اس کے بعد وہ ان سے کہتی ہیں کہ کتاب میں موجود مچھلی کی طرح وہ بھی اپنی انفرادی شخصیت ظاہر کریں۔

ٹیچر کے کہنے کے مطابق ہر بچہ اپنی پسند اور ذہن رسا کے مطابق ایک پتھر پر رنگ اور نقش و نگار تخلیق کرتا ہے۔ ہر بچہ دوسرے بچے سے مختلف رنگین پتھر تیار کرتا ہے اور اس دوران اپنی شخصیت کی انفرادیت پیش کرتا ہے۔

ان بچوں کے تیار کردہ پتھروں کی تعداد کئی سو تک جا پہنچی ہے اور ان کی مدد سے اسکول کے باہر ایک رنگین رہگزر تیار کی جاچکی ہے جو وہاں سے گزرنے والوں کی توجہ کا مرکز بن جاتی ہے۔

جیسیکا کا کہنا ہے کہ یہ پروجیکٹ اس خیال کی نفی کرتا ہے، کہ ’ہم اکیلے کچھ بھی نہیں‘۔ یہ پروجیکٹ بچوں کو بچپن سے یہ بات سمجھنے میں مدد دیتا ہے کہ صرف ایک بچے کی شخصیت بھی نہایت منفرد ہے اور دنیا کو بدل سکتی ہے۔

سوشل میڈیا پر شیئر کیے جانے کے بعد اس پروجیکٹ کو نہایت پسند کیا جارہا ہے اور کئی دوسرے اسکولوں نے بھی ایسے پروجیکٹس شروع کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں