The news is by your side.

سانحہ سیہون، خودکش حملہ آورکی شناخت کرلی، آئی جی سندھ

کراچی : آئی جی سندھ اے ڈی خواجہ نے کہا ہے کہ پولیس نے مبینہ خودکش حملہ آورکوشناخت کرلیا ہے جس کی مدد سے سانحہ کے مرکزی کردار تک جلد پہنچ جائیں گے۔

یہ بات انہوں نے ایک پر ہجوم پریس کانفرنس میں سانحہ سیہون کے حوالے سے ہونے والی اب تک کی تحقیقات سے آگاہ کرتے ہوئے بتائی۔


اس موقع پرسی سی ٹی وی فوٹیج بھی جاری کی گئی جس میں خود کش حملہ آور کو درگاہ میں داخل ہوتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے جو بڑی چالاکی سے اور ہجوم کا فائدہ اُٹھاتے ہوئے اندر داخل میں ہونے میں کامیاب ہو جاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ 99فیصدیقین ہےفوٹیج میں نظرآنےوالاشخص ہی حملہ آورہے جس کی آج ویڈیو بھی جاری کردی ہے۔

آئی جی سندھ اے ڈی خواجہ نے کہا کہ سیہون دھماکے پر پولیس پہلے دن سےتحقیقات کررہی ہے اور تحقیقات میں معاونت کے لیے دیگر سیکیورٹی اداروں کی مدد اور تعاون بھی حاصل ہے جس کے باعث واقعے کی تفتیش بہتر انداز میں آگے بڑھ رہی ہے۔

سانحہ درگاہ لعل شہباز قلندر

صوفی بزرگ سید عثمان بن مروندی امن و محبت اور حب اہل بیت کا پیغام لیے مروند سے سندھ آئے اور رہتی دنیا تک لعل شہباز قلندرٌ ہوگئے، انسانیت سے محبت اس عظیم ہستی کا درس تھا یہی وجہ ہے کہ ہر رنگ ونسل ،قومیت، فرقہ اور ذبان بولنے افراد کا یہاں تانتا بندھا رہتا تھا۔

امن کے دشمنوں کو یہ بات پسند نہیں آئی اورصوفی بزرگ لعل شہباز قلندرکی درگاہ کو خود کش دھماکا کر کے ان ہی کے عقیدت مندوں کے لہو سے لال کردیا گیا۔


*درگاہ لعل شہباز قلندر پر خودکش حملہ،88افراد شہید، 250 زخمی


ابتدائی تحقیقات

ابتدائی تحقیقات کے بعد سیکیورٹی حکام کی جانب سے دو متضاد دعوے سامنے ٓآئے جس کے تحت کہا گیا کہ حملہ آورنے درگاہ میں داخل ہونے کے لیے گولڈن گیٹ کا استعمال کیا اور وہ مبینہ طور پر کوئی خاتون تھیں جس خاتون کانسٹبل نہ ہونے کا فائدہ اُٹھایا اور اندر داخل ہوکر خود کو اُڑالیا

جب کہ اسی دن انچارج سی ٹی ڈی عمر خطاب کا کہنا تھا کہ خود کش حملہ آور مرد لگتا ہے تاہم ابھی تحقیقات کر رہے ہیں سی سی ٹی وی فوٹیجز کا جائزہ لے کرحتمی بات کہی جا سکتی ہے


درگاہ لعل شہبازقلندر دھماکہ، ابتدائی تحقیقات مکمل*


سانحہ کی ایف آئی آر کے مندرجات

دوسری جانب سانحہ سیہون کی ایف آئی آر میں ایس ایچ اورسول بخش پنہور نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ خود کش حملہ آور انٹری گیٹ نمبر16 پر6 بجکر40 منٹ پرچیکنگ کے لیے پہنچا اوردرگاہ کے واک تھرو گیٹ پر ڈیوٹی کاؤنٹر اسٹاف سے ملا۔

ایس ایچ او سیہون کے بیان کے مطابق واک تھرو کے قریب 4 مشکوک افرادشلوارقمیض میں تھے ڈیوٹی پرموجود ہیڈ کانسٹیبل عبد العلیم کوانہیں روکنے کا کہا تاہم جیسے ہی مشکوک لوگوں کو روکنےکیلئے کہا ویسے ہی دھماکا ہوگیا۔

 وزیراعلیٰ سندھ اورناقص سیکیورٹی کا اعتراف

وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کا کہناہےکہ لعل شہبازقلندر کے مزار پرسیکورٹی کےلیےمناسب تعداد میں پولیس اہلکار موجود نہیں تھے تاہم انہوں نے سیہون میں اسپتال کی غیر موجودگی اور ناقص طبی و انتظامی امور کی سختی سے تردید کرتے ہوئے کہ قریبی 20 بستروں پر مشتمل اسپتال موجود تھا لیکن وہ اتنے بڑے سانحے کے لیے ناکافی تھا.


*سیہون دھماکہ: وزیراعلیٰ سندھ کامناسب سیکورٹی نہ ہونے کااعتراف


خودکش حملہ آور کا سہولت کار گرفتار

سہون کے سہولت کار کو بھی گرفتار کرلیا گیا، ملزم کا تعلق خیرپور سے بتایا جارہا ہے، خودکش جیکٹ بھی شکارپور میں تیار ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔


*سانحہ سہون:‌ خودکش حملہ آور کا سہولت کار گرفتار


ملزم کا تعلق شکارپور کے حفیظ بروہی گروپ سے بتایا جارہا ہے جو گروپ لشکر جھنگوی چھوڑ کر داعش سے منسلک ہوچکا ہے۔

 سانحہ پرایک اور سانحہ، لاشوں کی باقیات کچرا کنڈی میں 

حضرت لعل شہباز قلندرؒ کے مزار پر ہونے والے خودکش دھماکے کے شہدا کی باقیات قریبی نالے اور کچرا کنڈی سے ملنے کا انکشاف ہوا ہے،اپنے پیارے کے اعضا دیکھ کر ایک عورت ہوش کھو بیٹھی۔

درگاہ کی بجلی کیوں معطل تھی

درگاہ میں خود کش دھماکے نے حکومتی بے حسی اور نا اہلی کی قلعی کھول دی ہے جہاں ٹاؤں انتظامیہ نے لاشوں کی باقیات کو کچرا کنڈی کی نذر کردیا وہیں تحقیقات کے بعد پتہ چلا کہ دھماکے کے وقت درگاہ کی بجلی نہ ہونے کی حیسکو کے چند افسران کی جانب سے درگاہ کی بجلی کو چرا کر دوسرے مکینوں کوغیر قانونی کنکشن فراہم کرنا تھا جس کے باعث درگاہ کی بجلی کا بل 4 کروڑ تک پہنچ گیا تھا۔

درگاہ لعل شہباز قلندر پر مریدوں کا پھر سے دھمال

درگاہ لعل شہباز قلندر پر خود کش دھماکا کا ذمہ دار کون ہے؟ وہ برقعہ میں ملبوس کوئی خاتون تھی یا سی سی ٹی وی میں دکھایا گیا صحت مند نوجوان، حملہ آور کے سہولت کار کون تھے اور کیا دوبارہ دھماکا بھی کر سکتے ہیں ان سارے خدشات اور متضاد بیانات سے بے نیاز قلندر کے مریدوں کو گوارا نہ ہوا کہ ایک دن بھی دھمال رکے چنانچہ دوسرے روز ہی مریدین سارے سیکیورٹی حصار توڑ کر درگاہ مجیں داخل ہوئے اور اسی وقت نقارہ بھی بجایا گیا اور دھمال بھی ڈالا گیا کہ محبت کا پیغام دھماکوں سے نہ رک پائے گا۔


*سیہون شریف: درگاہ پر زائرین کی آمد جاری، کاروباری مراکز کھلنا شروع


Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں