site
stats
عالمی خبریں

سوئٹزر لینڈ: مسلمان لڑکیوں کو لڑکوں کے ساتھ تیراکی کا حکم

برن: یورپی یونین کی ایک عدالت نے سوئس حکومت کے حق میں فیصلہ دیتے ہوئے مسلمان والدین کو ہدایت دی ہے کہ وہ اپنی بچیوں کو تیراکی کی لازمی مشق کے لیے مخلوط سوئمنگ پولز میں بھیجیں۔

تفصیلات کے مطابق سوئٹزر لینڈ نے یورپی یونین کی عدالت برائے انسانی حقوق (ای ایچ سی آر) میں ایک مقدمہ جیت لیا ہے جس کے تحت مسلمان والدین کو اپنے بچوں کو لازمی طور پر مخلوط سوئمنگ پولز میں بھیجنا پڑے گا، یہ مسئلہ دو ترک نژاد سوئس شہریوں کی طرف سے اٹھایا گیا تھا جنہوں نے اپنی بچیوں کو تیراکی کی لازمی مخلوط مشقوں کے لیے بھیجنے سے انکار کر دیا تھا۔

انکار کے بعد سوئٹزر لینڈ کے محکمہ تعلیم نے والدین کے خلاف یورپی یونین کی عدالت سے رجوع کیا تھا۔

برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق محکمۂ تعلیم کے حکام کا کہنا تھا کہ لڑکیوں کو بلوغت کی دہلیز پار کرنے کے بعد تیراکی کی ان لازمی مشقوں سے استثنیٰ حاصل ہے لیکن یہ لڑکیاں ابھی اس عمر کو نہیں پہنچی جبکہ والدین کی جانب سے یہ دلیل دی گئی کہ اس طرح کا رویہ انسانی حقوق کے یورپی کنونشن کے آرٹیکل 9 کی خلاف ورزی ہے۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ محکمہ تعلیم کے  حکام بچوں کو معاشرے سے بخوبی ہم آہنگ کرنے کی خاطر یہ حکم نامہ لاگو کرنے میں حق بجانب ہیں، ججوں نے کہا کہ ان کا یہ عمل یہ مذہبی آزادی کی خلاف ورزی کے زمرے میں نہیں آتا۔

یاد رہے کہ سال 2010 میں طویل تنازع کے بعد ان افراد کو بحیثیت والدین اپنی ذمہ داریوں کی ادائیگی میں کوتاہی کی بنا پر 1300 یورو کا جرمانہ ادا کرنے کا کہا گیا تھا۔ عدالت نے کہا کہ سوئٹزرلینڈ کو اپنی ضروریات اور روایت کے تحت اپنے تعلیمی نظام کو استوار کرنے کی پوری آزادی حاصل ہے۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top