The news is by your side.

Advertisement

مریخ پر پہلا قدم کس کا ہونا چاہیئے؟

بنی نوع انسان نے جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے خلا کی وسعتوں کو بھی چھاننا شروع کردیا ہے اور آج کے دور میں مختلف سیاروں کو سر کیے جانے کے منصوبے بنائے جارہے ہیں جن میں سے ایک مریخ بھی شامل ہے، ناسا کی ایک سینیئر انجینیئر کا کہنا ہے کہ مریخ پر پہلا قدم رکھنے والا انسان کوئی مرد نہیں بلکہ خاتون ہونا چاہیئے۔

امریکا کے خلائی ادارے ناسا میں بطور انجینیئر اپنی خدمات سر انجام دینے والی ایلسن مک انتارے کا کہنا ہے کہ چاند پر اب تک 12 افراد کو بھیجا جا چکا ہے جن میں سے ایک بھی خاتون نہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ اب جبکہ مریخ پر جانے کے منصوبے زیر تکمیل ہیں تو اس بار مریخ پر پہلا قدم رکھنے کا اعزاز ایک خاتون کو ہونا چاہیئے۔

مزید پڑھیں: مریخ پر ایک سال گزارنے کے بعد کیا ہوگا؟

ایلسن گزشتہ 30 برس سے ناسا سے منسلک ہیں اور ان کے مطابق انہوں نے وقت کو بدلتے دیکھا ہے۔ ’پہلے ادارے میں رکھے جانے والے افراد زیادہ تر مرد ہوتے تھے اور بہت کم خواتین کو ترجیح دی جاتی تھی، تاہم اب وقت بدل گیا ہے اب خواتین بھی مردوں کی طرح اعلیٰ عہدوں پر فائز کی جارہی ہیں‘۔

انہوں نے بتایا کہ ان کے شعبے کے ڈائریکٹر اور ڈویژن انچارج کی ذمہ داریاں بھی خواتین کے پاس ہیں، ’یقیناً خواتین مریخ پر بھی بہترین کارکردگی کا مظاہر کرسکتی ہیں‘۔

ایلسن مک انتارے کی اس تجویز کا تمام حلقوں کی جانب سے خیر مقدم کیا گیا ہے۔

خیال رہے کہ خلا میں جانے والی سب سے پہلی خاتون کا اعزاز روسی خلا نورد ویلینٹینا ٹریشکووا کے نام ہے جنہوں نے 60 کی دہائی میں زمین کے مدار سے باہر نکل کر یہ اعزاز اپنے نام کیا۔

مزید پڑھیں: خلا کو تسخیر کرنے والی باہمت خواتین

ڈاکٹر ویلینٹینا نے جب خلا کی طرف اپنا پہلا سفر کیا اس وقت وہ صرف 26 برس کی تھیں۔ انہوں نے 3 دن خلا میں گزارے اور اس دوران 48 مرتبہ زمین کے گرد چکر لگایا۔

ان کا خلائی جہاز ووسٹوک 6 ایک منظم خلائی پروگرام کا حصہ تھا جس کے تحت خلا کی مختلف تصاویر اور معلومات حاصل کی گئیں۔

ایک اور خلا باز پیگی وٹسن کو خلا میں سب زیادہ دن گزارنے والی پہلی خاتون خلا باز ہونے کا اعزاز بھی حاصل ہے۔ پیگی 3 خلائی مشنز میں مجموعی طور پر 665 دن خلا میں گزار چکی ہیں۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں۔ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں