The news is by your side.

Advertisement

ڈونلڈ ٹرمپ سفری پابندی کی معطلی سپریم کورٹ میں لے گئے

واشنگٹن: : وائٹ ہاؤس نے امریکی سپریم کورٹ سے کہا ہے کہ وہ صدر ٹرمپ کے مسلمان ملکوں پرعائد سفری پابندیوں کے قانون کو بحال کر دے۔

تفصیلات کےمطابق امریکی حکومت نے سپریم کورٹ کے نو ججوں سے دو ہنگامی درخواستیں عائد کر کے اپیل کی ہے کہ نچلی عدالتوں کے فیصلے کو منسوخ کیا جا سکے۔

وزارتِ انصاف کی ترجمان سارا فلوریس کا کہناہےکہ ہم نے سپریم کورٹ سے کہا ہے کہ وہ اس اہم کیس کی سماعت کرے اور ہمیں اعتماد ہے کہ صدرٹرمپ کا انتظامی حکم نامہ ان کے ملک کو محفوظ بنانے اور دہشت گردی سے محفوظ رکھنے کے قانونی دائرۂ اختیار کے اندر ہے۔

خیال رہےکہ رواں سال جنوری میں صدر ٹرمپ کا ابتدائی حکم نامہ ابتدائی طور پر ریاست واشنگٹن اور منی سوٹا میں منسوخ کر دیا گیا تھا۔

بعدازں امریکی صدر نے مارچ2017 کو ایک ترمیم شدہ حکم نامہ جاری کیا تھا جس میں صومالیہ، ایران، شام، سوڈان، لیبیا اور یمن سے لوگوں کا داخلہ ممنوع قرار پایا تھا۔ اس کے علاوہ تمام پناہ گزینوں کا داخلہ بھی عارضی طور پر معطل کر دیا گیا تھا۔

میری لینڈ کے ایک ڈسٹرکٹ جج نے یہ کہہ کر اسے بھی عارضی طور پر معطل کر دیا تھا کہ یہ قانون آئینی حقوق کے منافی ہے۔


ہوائی میں سفری پابندیوں کے حکم نامے کی معطلی میں توسیع


دوسری جانب ریاست ہوائی کے ایک جج نے بھی کہا تھاکہ قانون متعصبانہ ہے اور کہا کہ حکومت کے پاس اس بات کے شواہد نہیں ہیں کہ یہ قومی سلامتی کا معاملہ ہے۔

واضح رہےکہ گذشتہ ماہ ورجینیا کی ایک عدالت نے بھی حکم نامے کی معطلی ختم کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں