The news is by your side.

Advertisement

یورپی سربراہی اجلاس، بریگزٹ معاملے پر اختلافات بدستور برقرار

برسلز: آسٹریا میں یورپی سربراہی اجلاس ہوا جس میں یورپ اور برطانیہ کے درمیان بریگزٹ معاملے پر اختلافات اور تناؤ بدستور برقرار رہا۔

تفصیلات کے مطابق آسٹریا کے شہر برسلز میں دو روزہ یورپی سربراہی اجلاس آج ختم ہوگیا جس میں بریگزٹ معاملے پر عدم اتفاق ختم نہ ہوسکا۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق اجلاس میں برطانوی وزیر اعظم تھریسا مے سمیت یورپی ممالک کے اعلیٰ نمائندوں نے شرکت کی۔

اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے برطانوی وزیر اعظم تھریسا مے کا کہنا تھا کہ بریگزٹ معاملے کو حتمی شکل دینا چاہتے ہیں، اگلا مہینہ اس کے لیے انتہائی اہم ہے۔

دو روزہ اجلاس میں بریگزٹ کے علاوہ دیگر اہم موضوعات زیر بحث آئیں، جن میں مہاجرت کا سنگین مسئلہ اور انسانی اسمگلنگ کی روک تھام بھی شامل ہے۔

سمٹ میں موجود دیگر رہنماؤں نے یورپ کے مہاجرین مسئلے پر موثر حکمت عملی اپنانے پر اتفاق کیا، اور غیر قانونی طور پر یورپ داخل ہونے والے کے خلاف سختی پر زور دیا۔

بریگزٹ مذاکرات، برطانوی وزیر اعظم نے یورپی یونین سے گنجائش کا مطالبہ کردیا

خیال رہے کہ دو روز قبل بریگزٹ مذاکرات سے متعلق برطانوی وزیر اعظم تھریسا مے نے یورپی یونین سے گنجائش نکالنے کا مطالبہ کیا تھا۔

تھریسا مے نے کہا تھا کہ لندن حکومت نے آگے بڑھ کر معاملے کے حل کی بات کی ہے، اب یورپی یونین کو چاہیے کہ وہ بھی کچھ لچک دکھائے۔

واضح رہے کہ گذشتہ دنوں برطانیہ کے سابق وزیر خارجہ بورس جانسن نے کہا تھا کہ تھریسا مے کے لیے نامناسب زبان استعمال کرتے ہوئے کہا ہے کہ وزیر اعظم تھریسا مے نے برطانوی آئین کو خودکش جیکٹ پہنا کر ریمورٹ برسلز کے ہاتھ میں تھما دیا ہے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں