The news is by your side.

Advertisement

سابق روسی جاسوس پر حملہ، روس پر مزید امریکی پابندیاں عائد

واشنگٹن/ماسکو:روسی قانون ساز نے روس پر پابندیاں عائد کیے جانے پر امریکی فیصلے سے دونوں ممالک کے مابین تعلقات میں مزید کشیدگی بڑھنے کا عندیہ دیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سابق روسی جاسوس اور ان کی بیٹی کو زہر دینے کے معاملے پر روس پر مزید پابندی عائد کردیں،دوسری جانب روس کے قانون ساز نے کہا ہے کہ امریکی فیصلے سے دونوں ممالک کے مابین تعلقات میں مزید کشیدگی بڑھے گی۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ روز ماسکو کے خلاف پابندی کے لیے ایگزیکٹو آرڈر جاری کیا۔

واضح رہے کہ گزشتہ برس مارچ میں برطانیہ میں رہائش پذیر سابق روسی جاسوس سرگئی اسکریپال اور ان کی صاحبزادی یولیا اسکرپال پر اعصاب شل کردینے والے زہر نووی چوک سے حملہ کیا گیا تھا جس کے بعد ان کی حالات کچھ ہفتوں تک تشویش ناک رہی تھی لیکن بعد میں انہیں طبی امداد کے باعث بچا لیا گیا تھا، اس حملے کے بعد برطانیہ نے حملے کی ذمہ داری روس پر عائد کی تھی۔

بعدازاں روس اور مغربی ممالک کے مابین سفارتی جنگ، شروع ہوگئی تھی جس میں متعدد سفارتکاروں کو مغربی ممالک سے بے دخل کردیا گیا تھا۔

روسی سینیٹر فرینڈکس کیلنسویچ نے خبردار کیا کہ ماسکو پر نئی امریکی پابندیاں دونوں ممالک کے تعلقات میں مزید کشیدگی پیدا کریں گی،انہوں نے کہا کہ حقیقت میں یہ عالمی تعلقات کے تناظر میں تازہ حملہ ہے۔

دوسری جانب کانگریس کے ارکان وائٹ ہاؤس پردباؤ ڈال رہے ہیں کہ ماسکو پر مزید پابندیاں عائد کی جائیں۔

کانگریس اراکین کے مطابق امریکا کی جانب سے روس پر پہلی مرتبہ عائد کردہ پابندیوں میں شامل تھا کہ اب ماسکو کے ساتھ خارجہ تعاون ختم کردیا جائے جبکہ روسی حکومت کے ساتھ ہتھیار فروخت کا معاہدہ نہیں کیا جائے گا۔

واضح رہے کہ گزشتہ برس اپریل میں ورلڈ کیمیکل آرمز یا عالمی کیمیائی ہتھیاروں کی نگرانی کرنے والے ادارے نے سابق روسی جاسوس کو زہر دیے جانے کے برطانوی دعوے کی تصدیق کی تھی۔

برطانوی سیکریٹری خارجہ نے ایک بیان میں کہا تھا کہ اب اس بات میں کوئی شبہ نہیں ہے کہ کس قسم کا زہر استعمال کیا گیا اور اس کا ذمہ دار کون ہے۔

سائبر حملوں میں روسی خفیہ ایجنسی ’جی آر یو‘ ملوث ہے، برطانیہ کا الزام

ان کا کہنا تھا کہ صرف روس ہی ہے جس کو اس سے کوئی مطلب، مقصد اور ریکارڈ ہوسکتا ہے۔

بعدازاں ماسکو سے جاری ایک بیان میں کہا گیا تھا کہ ہم عالمی کیمیائی ہتھیاروں کی نگرانی کرنے والے ادارے کے تنائج کو اس وقت تک تسلیم نہیں کریں گے جب تک روسی ماہرین کو اجزا کے نمونے فراہم نہیں کردیئے جائیں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں