The news is by your side.

برطانیہ پلاسٹک کی آلودگی ختم کرنے کے لیے کوشاں

دنیا بھر میں پلاسٹک کا استعمال ماحول، جنگلی حیات اور انسانی صحت کے لیے سخت نقصان دہ ثابت ہورہا ہے جس کے خوفناک اثرات دن بدن سامنے آتے جا رہے ہیں۔

نصف سے زائد کرہ ارض کو پلاسٹک سے آلودہ کرنے کے بعد اب انسان کو خیال تو آیا ہے کہ اس آلودگی سے چھٹکارا پایا جائے تاہم بدقسمتی سے ہماری زندگیوں میں پلاسٹک کا استعمال اس قدر عام ہوچکا ہے کہ ہم معمولی سے کام کے لیے بھی پلاسٹک کی تھیلیوں کے محتاج ہیں۔

تاہم دنیا کے کئی ممالک پلاسٹک کے استعمال کو ختم یا کم کرنے کے لیے کوشاں ہیں جس میں برطانیہ سرفہرست ہے۔

یاد رہے کہ پلاسٹک ایک تباہ کن عنصر اس لیے ہے کیونکہ دیگر اشیا کے برعکس یہ زمین میں تلف نہیں ہوسکتا۔ ایسا کوئی خورد بینی جاندار نہیں جو اسے کھا کر اسے زمین کا حصہ بناسکے۔

ماہرین کے مطابق پلاسٹک کو زمین میں تلف ہونے کے لیے 1 سے 2 ہزار سال کا عرصہ درکار ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارا پھینکا جانے والا پلاسٹک کا کچرا طویل عرصے تک جوں کا توں رہتا ہے اور ہمارے شہروں کی گندگی اور کچرے میں اضافہ کرتا ہے۔

پلاسٹک کی آلودگی ختم کرنے کے لیے برطانیہ قابل تقلید اقدامات کر رہا ہے۔ آئیں دیکھتے ہیں وہ کیا اقدامات ہیں۔


ملکہ برطانیہ کی خصوصی توجہ

برطانیہ کی ملکہ الزبتھ نے کچھ عرصہ قبل برطانوی خبر رساں ادارے بی بی سی کی ایک دستاویزی فلم دیکھی جس میں پلاسٹک کی تباہ کاری کو دکھایا گیا تھا۔ اس فلم کو دیکھنے کے بعد ملکہ بے حد متاثر ہوئیں اور انہوں نے پلاسٹک کے استعمال کو کم سے کم کرنے کا حکم شاہی جاری کردیا۔

ملکہ کے حکم کے بعد برطانوی شاہی محل بکنگھم پیلیس میں طعام کے دوران پلاسٹک کے اسٹراز اور بوتلوں کا استعمال بند کردیا گیا ہے۔

علاوہ ازیں محل کا عملہ ایسی اشیا کو زیر استعمال لانے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے جو زمین میں باآسانی تلف ہوسکیں اور کچرا پھیلانے کا سبب نہ بنیں۔


ریستورانوں میں پلاسٹک کا کم استعمال

برطانیہ کے کئی معروف ریستورانوں نے رواں برس پلاسٹک کے استعمال کو کم سے کم کرنے کا عزم کیا ہے جس کے بعد بہت جلد یہ ریستوران اپنے گاہکوں کو پلاسٹک کے برتنوں میں سرونگ کرنا بند کردیں گے۔


اسکاٹ لینڈ ایک قدم آگے

ایک طرف جہاں اس آلودگی کو ختم کرنے کے لیے انفرادی طور پر کوششیں کی جارہی ہیں وہیں برطانیہ کے زیر انتظام اسکاٹ لینڈ نے ایک قدم آگے بڑھتے ہوئے پورے ملک میں پلاسٹک کے اسٹراز کے استعمال اور ان کے بنانے پر پابندی عائد کردی ہے۔


مائیکرو بیڈز پر پابندی

برطانیہ میں گزشتہ برس مائیکرو بیڈز پر پاندی عائد کی جاچکی ہے۔ مائیکرو بیڈز پلاسٹک کے ننھے ننھےذرات ہوتے ہیں جو کاسمیٹکس اشیا، ٹوتھ پیسٹ اور صابنوں میں شامل کیے جاتے ہیں۔

چونکہ یہ بہت چھوٹے ہوتے ہیں لہٰذا یہ ہر قسم کے فلٹر پلانٹ سے باآسانی گزر جاتے ہیں اور جھیلوں اور دریاؤں میں شامل ہو کر ان کی آلودگی میں اضافہ اور سمندری حیات کی بقا کے لیے نقصان دہ ہوتے ہیں۔


معروف سپر مارکیٹ کا قابل تقلید اقدام

برطانیہ کی ایک بڑی سپر مارکیٹ چین آئس لینڈ گزشتہ برس اس وقت دنیا بھر کی خبروں کا مرکز بن گئی جب اس نے اپنے اسٹورز کو پلاسٹک سے پاک بنانے کا اعلان کیا۔

یہ چین فی الوقت پلاسٹک کی جگہ کاغذ کے تھیلے اور پھلوں کے گودے سے بنائے گئے کنٹینرز استعمال کر رہا ہے۔

ایک معروف سپر مارکیٹ چین کے اس اقدام سے پلاسٹک کی آلودگی کو ختم کرنے کے لیے کی جانے والی کوششوں کو تقویت ملی ہے اور دیگر چینز نے بھی اس بارے میں سوچنا شروع کردیا ہے۔

پلاسٹک کی تباہ کاری کے بارے میں مزید مضامین پڑھیں


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں۔ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں