The news is by your side.

Advertisement

انتخاب

ریاست کی جوائنٹ اسکول ہاکی ٹیم کے انتخاب کا عمل چل رہا تھا۔ مختلف اضلاع سے پینتیس لڑکوں کو شارٹ لسٹ کیا گیا۔ ان میں سے سولہ لڑکوں کا انتخاب نیشنل اسکول کامپیٹیشن کے لیے کیا جانا تھا۔ تمام کھلاڑیوں کو تین ٹیموں میں تقسیم کیا گیا، جن کو آپس میں میچ کھیل کر اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کرنا تھا۔

چیف کوچ رحمان قریشی، ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کے اہم گیم افسر رتی لال یادو اور حکومت کے گیم ڈیپارٹمنٹ کے نمائندے وامن راؤ ناگپورے کو سولہ کھلاڑیوں کے حتمی انتخاب کی ذمہ داری سونپی گئی تھی۔

میچوں کے اختتام کے بعد تمام سلیکٹرز اسٹیڈیم کی کینٹین میں ملے۔ وامن راؤ نے اپنی جیب سے ایک فارم نکالا اور ٹیبل پر رکھتے ہوئے بولے۔

وزیرِ کھیل کی طرف سے دو لڑکوں کے نام آئے ہیں۔ بھونیش کمار اور سشیل چوکسے۔ دونوں ان کے علاقے کے ہیں۔
ٹھیک ہے۔ وزیر صاحب نے کہا ہے، تو دونوں کو ٹیم میں لینا ہی پڑے گا۔ رحمان بولے۔ یادو جی نے بھی رضامندی میں سر ہلایا۔

ایک نام اسپورٹس ڈائریکٹر آشیش سنگھ نے بھی دیا ہے۔ ان کے کسی رشتہ دار کے بیٹے پریکشت سنگھ۔ وامن راؤ بولے۔ ان کا بھی نام لکھ لو۔ رحمان نے کہا۔

سر دو نام ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کے سیکرٹری اور جوائن ڈائریکٹر صاحب نے دیے ہیں۔ رتی لال یادو نے ناموں کی پرچی سب کے سامنے رکھی۔ ان کا انتخاب بھی بلامقابلہ ہو گیا۔

ٹریڑری کے بابو شیش راؤ کے بیٹے بھیم راؤ کو بھی لینا پڑے گا ٹیم میں۔ ورنہ ہمارے بل بھی پاس نہیں ہوں گے۔ مسئلے ہوتے رہیں گے۔ رتی لال نے پرانے تجربے کی بنیاد پر اپنی بات رکھی۔ بات میں دَم تھا سو سب نے فوری طور پر مان لی۔

چھے لوگوں کا انتخاب تو ہو ہی چکا ہے۔ ایک نام ڈاکٹر صاحب سے لے لیتے ہیں اور باقی بچے نو لوگ، تین تین لوگوں کے نام ہم آپس میں فائنل کر لیتے ہیں۔ رحمان کی یہ تجویز سب کو پسند آئی۔

ڈاکٹر صاحب نے فون پر اپنے پسندیدہ کھلاڑی کا نام نوٹ کرا دیا۔ رتی لال نے اپنی ذات برادری کے تین نام طے کیے۔ وامن راؤ نے بھی اپنے دو رشتہ داروں اور کالونی کے ایک لڑکے کا نام کمیٹی کے سامنے رکھا۔ رحمان نے ایک مسلمان اور دو کم سِن چھوکروں کے نام رکھے۔ ٹیم کا انتخاب ہو گیا تھا۔ چنانچہ سب نے دستخط کیے اور ایک اسٹیٹمنٹ جاری کیا۔

اپنی ٹیم پر ایک گول بھی اسکور نہ ہونے دینے والے اور سب سے قابلِ اعتماد گول کیپر کے طور پر ابھرے پی رنگا ناتھ کو میڈیکلی ان فٹ ہونے کی وجہ سے نہیں لیا جا سکا۔ سب سے زیادہ گول کرنے والے پربھجوت سنگھ بھی ڈسپلن کی وجہ سے ٹیم کا حصہ نہیں بن سکے۔ ان کے خلاف متفقہ طور پر مناسب کارروائی کرنے کے لیے کیس ڈائریکٹر آف اسکول ایجوکیشن کو بھیجنے کی سفارش کی گئی۔
(مصنف: ارون ارنو کھرے)

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں