The news is by your side.

Advertisement

ہارورڈ یونیورسٹی میں زیر تعلیم فلسطینی نوجوان کا امریکا میں داخلہ بند

واشنگٹن : امریکی ریاست بوسٹن کے ایئرپورٹ پر حکام نے ہاروڈ یونیورسٹی کے فلسطینی طالبعلم کو ملک میں داخل ہونے سے روک دیا اور تحقیقات کے باوجودفلسطینی نوجوان کو امریکا میں داخلے کی اجازت نہیں دی گئی۔

تفصیلات کے مطابق ایئرپورٹ حکام نے فلسطینی نوجوان اسمٰعیل عجوی کو لوگن ایئرپورٹ پر 8 گھنٹے تحویل میں رکھا اور مذہب سے متعلق سوالات کیےبعدازاں امریکی حکام نے ہارورڈ یونیورسٹی کے فلسطینی طالبعلم اسمٰعیل عجوی کے سوشل میڈیا اکاونٹ پر ان کے ایک دوست کے سیاسی بیان کو جواز بنا کر امریکا میں داخل ہونے سے روک دیا۔

واضح رہے کہ ہارورڈ یونیورسٹی کا شمار دنیا کے نامور تعلیمی اداروں میں ہوتا ہے۔

اس حوالے سے اسمٰعیل عجوی نے بتایا کہ لوگن انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر ان کے موبائل اور لیپ ٹاپ کی 5 گھنٹے جانچ پڑتال کی گئی اور پھر ایک خاتون افسر کمرے میں داخل ہوئی اور ’مجھ پر چیخنے لگی۔

فلسطینی طالبعلم کا کہنا تھا کہ خاتون افسر نے بتایا کہ انہیں میرے سوشل میڈیا اکاونٹ پر موجود دوستوں کی فہرست میں ایسے افراد ملے ہیں، جو امریکا کے خلاف سیاسی بیانات دیتے ہیں۔17

غیر ملکی میڈیا کے مطابق سالہ اسمٰعیل نے بتایا کہ انہوں نے خاتون افسر کو احتجاجاً کہا کہ میرے دوستوں نے سیاسی نقطہ نظر ظاہر کیا، جس میں میری کوئی رائے نہیں ہے لیکن افسر نے کہا کہ آپ کا ویزا منسوخ کیا جاتا ہے۔

دوسری جانب امریکی کسٹمز اینڈ بارڈر پروٹیکشن ایجنسی نے تصدیق کی کہ انہوں نے اسمٰعیل عجوی کو امریکا میں داخلے کی اجازت نہیں دی تاہم امریکی بارڈر ایجنسی نے مطلوبہ معلومات فراہم نہیں کیں، جس کے باعث فلسطینی نوجوان کو امریکا سے بے دخل کیا گیا۔

ایجنسی کے ترجمان مائیکل میک کارتھیے نے بتایا کہ سی بی پی تحقیقات کے دوران جو معلومات سامنے آئیں، اس بنیاد پر فلسطینی نوجوان کو امریکا میں داخلے کی اجازت نہیں دی گئی،اس ضمن میں اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ حکام نے بتایا کہ مذکورہ کیس سے متعلق قانونی پیچیدگیوں کو زیر بحث نہیں لایا جائے گا۔

انہوں نے کہا عام طور پر سیاسی بیان یا نقطہ نظر کی بنیاد پر ویزا دینے سے انکار نہیں کیا جاتا ہے، اگر وہ بیانات یا نظریات امریکا میں قانون کے مطابق ہوں علاوہ ازیں فلسطینی طالبعلم اسمٰعیل عجوی نے امید ظاہر کی کہ اگلے ہفتے کلاسز شروع ہونے قبل ان کا معاملہ حل ہوجائے گا۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں