The news is by your side.

Advertisement

عتیق قتل کیس ، امریکی سفارتکار کرنل جوزف بلیک لسٹ قرار

اسلام آباد : امریکی سفارت کار کی گاڑی کی ٹکر سے شہری کی موت کے کیس میں وزارت داخلہ نے کرنل جوزف کو بلیک لسٹ قرار دے دیا۔

تفصیلات کے مطابق اسلام آبادہائیکورٹ میں امریکی سفارتکارکی گاڑی سے شہری عتیق کی موت پر کیس کی سماعت ہوئی ،مقتول عتیق الرحمان کے والد ادریس احمد وکیل مرزا شہزاد اکبر کے ساتھ عدالت میں موجود تھے۔

سماعت میں ڈپٹی اٹارنی جنرل راجاخالدمحمودنے عدالت میں وزارتِ داخلہ کی رپورٹ جمع کرادی، جس میں کہاگیا ہے کہ عتیق قتل کیس میں کرنل جوزف کو بلیک لسٹ قراردیا گیا ہے، کرنل جوزف سفرنہیں کرسکتا۔

جسٹس عامرفاروق پرمشتمل سنگل بینچ نے استفسارکیاکہ یہ بلیک لسٹ کیا ہوتا ہے؟ جس پر ڈپٹی اٹارنی جنرل نےعدالت کو بتایا کہ بلیک لسٹ اورای سی ایل ایک جیسے ہیں۔ اس بارےمیں کرنل جوزف کوبھی تحریری طورپر آگاہ کردیا گیا ہے۔

عدالت نے استفسار کیا کہ امریکی یا پاکستانی قوا نین کے مطابق سزا دی جائے گی؟ ویانا کنونشن اس پر کیا کہتا ہے، جس کے بعد ڈپٹی اٹارنی جنرل نےعدالت کو ویانا کنونشن کامعاہدہ پڑھ کرسنایا۔

جسٹس عامرفاروق نے ریمارکس میں کہا کہ حکم دیاتھاقانون کےمطابق عمل کریں، آپ ایک ڈپلومیٹس کوڈیل کررہےہیں،وزارت داخلہ سے مشورہ کیا ہے؟ کرنل جوزف ڈپلومیٹس نہیں ہے،اگرکلیم کرتاہےتوالگ معاملہ ہے، ویاناکنونشن کےمطابق معاملات حکومت پاکستان کوحل کرنے چاہئیں۔

عدالت نے ہدایت کی کہ آئندہ سماعت پروزارتِ قانون، داخلہ اور خارجہ رپورٹ جمع کرائیں۔ رپورٹ میں قانونی وضاحت کی جائے کہ آیاکرنل جوزف کوپاکستانی، امریکی یا ویاناکنونشن کے تحت سزا دی جاسکتی ہے۔

بعد ازاں عدالت نے سماعت دس روز تک کے لئے ملتوی کردی۔


مزید پڑھیں : نشے میں دھت امریکی سفارتکار نے نوجوان کو کچل ڈالا،مقدمہ درج


یاد رہے کہ 8 اپریل اسلام آباد کے علاقے تھانہ کوہسارکی حدود میں تیز رفتار گاڑی میں سوارنشے میں دھت امریکی ملٹری اتاشی کرنل جوزف نے موٹرسائیکل سوار نوجوان عتیق بیگ کو ٹکرماری جس سے وہ موقع پر ہی جاں بحق ہوگیا تھا جبکہ حادثے میں دو افراد زخمی بھی ہوئے تھے۔

جوان کی ہلاکت پرمتوفی عتیق بیگ کے والد کی مدعیت میں اسلا م آباد کے تھانہ کوہسار میں مقدمہ درج کرلیا گیا تھا۔

بعد ازاں وفاقی حکومت نے امریکی سفارت کار کرنل جوزف کا نام واچ لسٹ میں ڈالنے کے بعد اس کا ڈرائیونگ لائسنس منسوخ کردیا تھا۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں‘ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں