مسلم ممالک کے ویزوں کی منسوخی روک دی گئی، امریکی محکمہ خارجہ immigration order
The news is by your side.

Advertisement

مسلم ممالک پر پابندی کا حکم واپس، 60 ہزار ویزوں کی منسوخی کا عمل معطل

واشنگٹن: ٹرمپ انتظامیہ نے عدالتی حکم کے بعد 7 مسلم ممالک پر پابندی کا صدارتی حکم نامہ واپس لیتے  ہوئے 60 ہزار باشندوں کے ویزا کی منسوخی کا عمل روک دیا، انتظامیہ کا کہنا ہے کہ عدالتی حکم کو چیلنج کریں گے۔

تفصیلات کے مطابق امریکا میں شدید احتجاج کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ کو 7 مسلم ممالک کے باشندوں کی امریکا میں داخلے کی پابندی کے فیصلے سے پیچھے ہٹنا پڑ گیا، ہوم لینڈ سیکیورٹی کے ترجمان نے اعلامیے میں کہا ہے کہ امریکی عدالت کے فیصلے کے بعد ٹرمپ کے ایگزیکٹو آرڈر کو واپس لے لیا گیا ہے اور حکومت نے 60 ہزار ویزوں کی منسوخی کا عمل روک دیا ہے۔

پڑھیں: ’’ امریکی وفاقی جج نےٹرمپ کاامیگریشن آرڈرمعطل کردیا ‘‘

امریکی صدر کے حکم نامے کے بعد 60 ہزار ویزے منسوخ کیے گئے تھے تاہم امریکی محکمہ انصاف نے عدالتی حکم نامے کو چیلنج کرنے کا فیصلہ بھی کیا ہے۔ ٹوئٹر پر ایک پیغام میں صدر ٹرمپ نے جمیز رابرٹ کو ’نام نہاد‘ جج قرار دیا اور کہا کہ ان کی ’مضحکہ خیز رائے‘ یقینی طور پر ملک کو قانون کے نفاذ سے دور لے جائے گی۔ اس فیصلے کے بعد بہت سی ائیرلائنز کا کہنا ہے کہ انھوں نے ان سات ملکوں سے مسافروں کو امریکہ لے جانے کے لیے پروازیں شروع کر دی ہیں۔

مزید پڑھیں: ’’ امریکی صدر کے تارکین وطن اور 7 مسلم ممالک کے داخلے پر پابندی کے حکم نامہ پر دستخط ‘‘

اے آر وائی نمائندے جہانزیب کےمطابق ٹرمپ کے احکامات کے بعد امریکا کی مختلف ریاستوں میں احتجاجی مظاہرے کیے گئے، ائیرپورٹ پر پھنسے مسلمانوں مسافروں نے ہوائی اڈے پر نماز ادا کر کے پر امن احتجاج ریکارڈ کروایا۔

امریکی کسٹمز کے حکام نے امریکی فضائی کمپنیوں سے کہا ہے کہ جب تک معاملہ عدالت میں ہے وہ پابندی سے متاثرہ ممالک کے شہریوں کو امریکہ لا سکتے ہیں۔ تاہم ٹرمپ انتظامیہ اگر اس فیصلے کے خلاف ہنگامی حکمِ امتناعی حاصل کرنے میں کامیاب ہوتی ہے تو یہ سلسلہ پھر رک سکتا ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ نے اس عدالتی فیصلے کو زیادتی قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ صدر ٹرمپ کا حکم قانونی اور مناسب ہے۔

US judge temporarily blocks the Trump travel… by arynews

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں