The news is by your side.

Advertisement

ہنگری: مسلمان پناہ گزینوں کے مخالف سیاست داں تیسری بار وزیراعظم منتخب

ہنگری:  مسلمان پناہ گزینوں کے سخت ترین مخالف ہنگری رہنما تیسری مدت کے لیے ہنگری کے وزیر اعظم منتخب ہوگئے۔

تفصیلات کے مطابق ہنگری میں اتوار کو ہونے والے عام انتخابات میں دائیں بازو سے تعلق رکھنے والے رہنما وکٹراوربن سب سے زیادہ ووٹ لے کر کامیاب ہوگئے ہیں  جس سے ہنگری اور یورپ کے درمیان تناؤ میں اضافہ ہوگیا ہے۔

غیر حتمی نتائج کے مطابق اوربن کے اتحاد نے انتخابات میں واضح برتری کے ساتھ مطلوبہ اکثریت حاصل کرکے یور

ہنگری کے رہنما وکٹراوربن کا تیسری مدت کے لیے وزیر اعظم منتخب ہونا پناہ گزینوں کے مسائل میں اضافے کے مترادف ہے، پارلیمان میں دو تہائی اکثریت حاصل کرنے کے بعد اوربن کو ملکی آئین میں ترامیم کرنے کا اختیار حاصل ہوگا

پ آنے والے مسلمان مہاجرین کے لیے مستقبل میں مزید پریشانیاں کھڑی کردی ہیں۔

مصیبت کا شکار مختلف مسلم ممالک سے یورپ آنے والے مہاجرین کا سلسلہ تاحال جاری ہے جب کہ دوسری طرف یورپی سطح پر ان کی مخالفت بھی بڑھتی جارہی ہے۔

ایسے میں ہنگری کے رہنما اوربن کا تیسری مدت کے لیے وزیر اعظم منتخب ہونا پناہ گزینوں کے لیے مسائل میں اضافے کے مترادف ہے کیوں کہ پارلیمان میں دو تہائی اکثریت حاصل کرنے کے بعد اوربن کو ملکی آئین میں ترامیم کرنے کا اختیار حاصل ہوگا۔

واضح رہے کہ 54 سالہ اوربن مسلسل دو مرتبہ وزیر اعظم رہ چکے ہیں اور اب تیسری مرتبہ اس عہدے پر فائز ہونے جارہے ہیں، تاہم ان پر ہنگری اور یورپی یونین میں بدعنوانی کے الزامات بھی لگتے رہے ہیں، ناقدین کا کہنا ہے کہ انھوں نے جمہوری اداروں کو بڑے منظم انداز میں کمزور بنایا۔

تارکین وطن کے لئے ہنگری کی سرحد بند

یاد رہے کہ ہنگری کے نو منتخب وزیر اعظم نے مسلمان ملکوں سے یورپ آنے ولے مہاجرین پر انتہائی سخت مؤقف اختیار کر رکھا ہے، انھوں نے مہاجرین کی تقسیم کے حوالے سے یورپی ڈیل کو بھی عدالت میں چیلنج کیا ہے۔

ہنگری کے پارلیمان میں اوربن کے اتحاد نے اب تک 199 میں سے 134 نشستیں حاصل کی ہیں، جب کہ انتہائی دائیں بازو کی جوبک پارٹی 26 نشستوں کے ساتھ دوسری اور سوشل ڈیموکریٹس 20 نشستوں کے ساتھ تیسری پوزیشن پر ہیں۔

واضح رہے کہ شام اور مشرق وسطی کے جنگ زدہ علاقوں سے ہجرت کرکے آنے والے ہزاروں تارکین وطن پر ہنگری نے اپنی سرحد بند کردی تھی جس سے پناہ گزینوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں، مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کےلیے سوشل میڈیا پرشیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں