The news is by your side.

Advertisement

برطانیہ کے بعد امریکا میں کوروناویکسین لگوانے والے کے ساتھ کیا ہوا؟

واشنگٹن: برطانیہ کے بعد امریکا میں بھی کوروناویکسین لگوانے والے ہیلتھ ورکر کو سنگین الرجک ری ایکشن کا سامنا کرنا پڑا ہے، تاہم متاثرہ شخص کی حالت خطرے سے باہر ہے۔

غیرملکی خبررساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق امریکی اور جرمن ادویہ ساز کمپنیوں کی جانب سے تیار کردہ کوروناویکسین کے استعمال سے الرجی کے شکار افراد پر ری ایکشن کے اثرات ریکارڈ کیا جارہا ہے۔ اس سے قبل برطانیہ میں بھی یہ شکایت سامنے آئی تھی جس کے بعد شعبہ صحت نے انتباہ جاری کیا تھا۔

رپورٹ کے مطابق نیا کیس امریکی ریاست الاسکا میں رپورٹ ہوا ہے جہاں الرجی کے شکار ہیلتھ ورکر پر کورونا ویکسین کا سنگین الرجک ری ایکشن ہوا لیکن وہ محفوظ ہے۔

برطانیہ میں کوروناویکسین لگوانے والوں کے ساتھ کیا ہوا؟

یہ ویکسین فائزر اور بائیوٹیک کی تیار کردہ ہے۔ برطانیہ میں الرجک ری ایکشن کے دو کیسز رپورٹ ہوئے تھے۔

امریکی حکام نے بھی ان افراد کو کوروناویکسین کے استعمال سے روک دیا ہے جنہیں الرجی کی بیماری ہے۔ اسی طرح کا انتباہی پیغام کینیڈا بھی جاری کرچکا ہے کیوں یہ مذکروہ ویکسین اوٹاوا حکومت نے بھی حاصل کرلی ہے۔

خیال رہے کہ دنیا بھر میں کورونا وبا کو ویکسین کے ذریعے شکست دینے کی کوششوں کا آغاز ہوچکا ہے، برطانیہ دنیا کا پہلا ملک بن گیا جس نے انجیکشن کی صورت ویکسی نیشن کے عمل کی شروعات کی ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں