site
stats
صحت

دن کا بیشتر حصہ بیٹھ کر گزارنے والوں کو کیا کھانا چاہیئے؟

جو لوگ دفاتر میں کام کرتے ہیں وہ اپنے وزن کا خیال نہیں رکھ پاتے۔ انہیں جم جانے اور ورزش کرنے کا ٹائم بھی نہیں مل پاتا۔ یوں مستقل بیٹھے رہنے سے وہ مختلف جسمانی پیچیدگیوں کا شکار ہوجاتے ہیں۔

یہ نقصان دہ عادت آگے چل کر کئی امراض کی وجہ بن سکتی ہے۔ دن کا زیادہ حصہ بیٹھ کر گزارنے سے دل کے دورے، فالج اور موٹاپے سمیت کئی امراض کے لاحق ہونے کا خطرہ ہوتا ہے۔

دفتر میں ورزش کرنے کی کچھ تراکیب *

دفاتر میں کام کرنے والے افراد کو ورزش اور جسمانی حرکت کے ساتھ ساتھ اپنی غذا کا بھی خاص خیال رکھنا چاہیئے اور ایسی خوراک کھانی چاہیئے جو ان کے نظام ہاضمہ پر بوجھ نہ بنے۔

دفتر پہنچ کر ابتدائی 10 منٹ کیسے گزارے جائیں؟ *

یہاں ہم آپ کو ایسی ہی کچھ غذائیں بتا رہے ہیں جو دفاتر میں جانے والے اور دن کا زیادہ حصہ بیٹھ کر گزارنے والے افراد کے لیے نہایت موزوں اور فائدہ مند ہیں۔

:بیریز

1

مختلف اقسام کی بیریز جیسے اسٹرابیزیر، بلو بیریز اور رس بیریز کھٹاس اور مٹھاس کا مجموعہ ہوتی ہیں۔ اس میں موجود اینٹی آکسیڈنٹس وزن میں اضافہ ہونے سے روکتی ہیں۔

:خشک میوہ جات

nuts

خشک میوہ جات جیسے پستہ، بادام اور کاجو وغیرہ جسم میں کولیسٹرول کی سطح کو معمول پر لانے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں۔

:پائن ایپل

pineapple

پائن ایپل جسم میں نظام ہاضمہ کو فعال رکھتا ہے اور اس کی کارکردگی کو بہتر بناتا ہے۔

:زیتون کا تیل

olive-oil

دفاتر جانے والے افراد اگر اپنے ظہرانے میں زیتون کے تیل سے بنی غذائیں شامل کرلیں تو یہ ان کی صحت کے لیے بہترین عمل ہوگا۔

:ادرک لہسن

ginger

اسی طرح کھانے میں ادرک لہسن کو بھی شامل کرلیا جائے تو یہ کئی فوائد کا باعث بنتی ہیں۔ ادرک نظام ہاضمہ کو بہتر بناتی ہے جبکہ لہسن سے کولیسٹرول اور بلڈ پریشر کی سطح معمول پر رہتی ہے اور یہ دماغی بیماریوں جیسے الزائمر اور ڈیمینشیا سے بھی حفاظت فراہم کرتا ہے۔

:سبز چائے

olive-oil

سبز چائے وزن گھٹانے کا آزمودہ ترین نسخہ ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ سبز چائے دماغی کارکردگی میں اضافے اور کئی اقسام کے کینسر سے بچاؤ میں بھی معاون ثابت ہوتی ہے۔

:مچھلی

fish

مچھلی میں موجود اومیگا 3 فیٹی ایسڈز صحت کے لیے نہایت مفید ہیں۔

اگر آپ بھی اپنے دن کا بیشتر حصہ دفتر میں بیٹھ کر گزارتے ہیں تو آپ بھی ان غذاؤں کا استعمال شروع کردیں۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top