The news is by your side.

Advertisement

کراچی: اغوا برائے تاوان کی وارداتوں میں کون ملوث ہے؟ تہلکہ خیز انکشاف منظر عام پر

کراچی: سندھ رینجرز نے شہر میں اغوا برائے تاوان میں ملوث گروہ کو بے نقاب کرتے ہوئے بڑی گرفتاری کی ہیں۔

کراچی: تفصیلات کے مطابق ونگ کمانڈر رینجرز کرنل سکندر نے پولیس افسران کے ہمراہ پریس کانفرنس میں بتایا کہ شہر میں اغوا برائے تاوان کی بڑی واردات میں ملوث 8 اغواکاروں کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔

ملزمان کی گرفتاری واٹس ایپ کو ٹریس کرنے کے بعد عمل میں لائی گئی ہے، یہ پہلا موقع ہے جب واٹس ایپ کی مدد سے ملزمان کو گرفتار کیا گیا۔

کرنل سکندر نے بتایا کہ گرفتار اغوا کاروں میں مختلف سرکاری محکموں کے اہلکار بھی شامل ہیں، ان میں 2 کسٹم اہلکار، 2پولیس اہلکار ،ایک عدالتی ملازم بھی شامل ہے، ملزمان نے گلشن معمار سے سنار کے بیٹے حمزہ کو اغوا کرنے کے بعد 2 کروڑ روپے تاوان طلب کیا، ملزمان تاوان کے لئے اہل خانہ سے 35 لاکھ روپے وصول کرچکے تھے۔

ونگ کمانڈر رینجرز کرنل سکندر نے اپنی پریس کانفرنس میں بتایا کہ گرفتار ملزمان سے 19لاکھ70ہزارکیش برآمد کیا جاچکا جبکہ مغوی کو بھی بحفاظت بازیاب کرایا جاچکا ہے اور مغوی کی موٹر سائیکل اور جس کار میں اغواکیا گیابرآمد کرلی گئی ہے، ملزمان سے اسلحہ بھی برآمد ہوا ہے۔

اس موقع پر ایس ایس پی اے وی ایل سی معروف عثمان نے ملزمان کی گرفتاری سے متعلق مزید بتایا کہ شہری کے اغوا کے بعد رینجرز اور اے وی سی سی نےمشترکہ تحقیقاتی ٹیم بنائی، واٹس ایپ کو ٹریس کرکے ملزمان تک پہنچے، ملزمان مغوی کا فون استعمال کرتے رہے اور ملزمان سم نکال کر انٹرنیٹ کےذریعے واٹس ایپ پر رابطہ کرتے رہے۔

معروف عثمان نےواضح کیا کہ سرکاری ملازم اگر ملزم ہے تو اس کے ساتھ وہی برتاؤ کیا جاتا ہے۔

ونگ کمانڈر رینجرز کرنل سکندر کا مزید کہنا تھا کہ گینگ کی یہ پہلی واردات نہیں ہے، ملزمان گاڑیوں کی غیر قانونی خرید وفروخت میں بھی ملوث ہیں، ملزمان جنہیں گاڑیاں بیچتے انہی کو پکڑ کرپیسہ لیتے تھے،ملزمان سےمزیدتفتیش کریں گے، جوبھی تفتیش سامنےآئے گی سب کےسامنےرکھیں گے، ابتدائی تفتیش میں ملزمان نے اعتراف کرلیا ہے اور 100فیصد ریکوری بھی ہوچکی ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں