The news is by your side.

Advertisement

آغا حشر کا ڈرامہ ’یہودی کی لڑکی‘ ناپا میں ناظرین کے لیے پیش

کراچی: آغاحشرکاشمیری کا شہرہ آفاق تھیٹرڈرامہ ’یہودی کی لڑکی‘ نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف پرفارمنگ آرٹس کے زیرِاہتمام ’ناپا ریپرٹری تھیٹر‘ میں عوام کے لیے پیش کیا جارہا ہے‘ ڈرامے کے پہلے شو نے حاضرین کو اپنے سحرمیں مبتلا کردیا۔

تفصیلات کے مطابق گزشتہ روز ناپا ریپرٹری تھیٹرپاکستان میں تھیٹر کے احیاء اور تھیٹر بینی کے شوق کو مہمیز کرنے کے لیے ہندوستانی شیکسپیئر کے نام سے پہچانے جانے والے معروف ڈرامہ نگار آغا حشر کاشمیری کے ڈرامے یہودی کی لڑکی کو برصغیر کے قدیم پارسی تھیٹر کے روایتی اندازمیں پیش کررہا ہے۔

napa
مارکس اور ڈیسیا کی شادی کا منظر

آغا حشرکے سحر انگیز قلم سے ضبطِ تحریر میں آنے والا یہ کھیل اپنے ناظرین کو آج سے دوہزارسال قبل قدیم روم میں لے جاتا ہے جب یہودی رومنوں کے ہاتھوں ظلم و ستم سہہ رہے تھے اوردردربھٹکنے پر مجبور تھے۔ آغا حشرکا یہ کھیل اول اول اس وقت پیش کیا گیا تھا جب برصغیر میں پارسی تھیٹرراج کررہا تھا اوریہی وجہ ہے کہ اس دور کی روایات کے مطابق یہ کھیل رزمیہ انداز میں تحریر کیا گیا ہے اور درمیان میں جابجا گیتوں کا سہارا بھی لیا گہا ہے۔

napa-3
شہزادی ڈیسیا اداس منظر میں

کھیل کی ساری کہانی ایک ایسے ستم رسیدہ بوڑھے یہودی کی لڑکی کے گرد گھومتی ہے جس کی ساری زندگی رومنوں کے جبر کے خلاف آواز اٹھاتے گزری ‘ کہانی اپنے آغاز سے انجام تک آپ کو اپنے سحر میں جکڑے رکھتی ہے اور ناظرین کی توجہ ایک لمحے کے لیے بھی ادھر ادھر نہیں بھٹکنے دیتی۔

yahoodi-ki-larki
یہودی کی لڑکی – راحیل

کھیل کا مرکزی خیال بنیادی طور پر عزرا نامی یہودی اوراس کی خوبرو بیٹی راحیل‘ مارکس نامی رومی شہزادے اور بروٹس نامی مذہبی پیشوا کی کہانی کے گرد گھومتا ہے۔ راحیل کا کردار ادا کرنے والی ماریہ فریدی نے اپنی بھرپور اداکاری سے اس کھیل میں رنگ بھرے جبکہ یہ کھیل اپنے نقطہ کمال کو اس وقت پہنچتا ہے جب عزرا یہودی کا کردار اداکرنے والے نذر الحسن اور مذہبی پیشوا کا کردار ادا کرنے والے اکبر اسلام کے درمیان مکالمے بازی ہوتی ہے۔ خصوصاً کھیل کے اختتام سے کچھ دیر قبل دونوں کی لفظی معرکہ آرائی میں ایک لمحہ ایسا بھی آتا ہے کہ ناظرین اپنی سانسیں تک روک لیتے ہیں کہ اب آگے کیا ہوگا۔

napa
بروٹس (مذہبی پیشوا اور عزرا یہودی آمنے سامنے (ریہرسل)۔

ناپا کے پہلے بیج سے گرایجویٹ فواد خان اس ڈرامے میں شہزادہ مارکس کے انتہائی اہم کردار پر فائز ہونے کے باوجود اپنا تاثر قائم کرنے میں ناکام رہتے ہیں اور ایک جگہ ان کی زبان بھی لڑکھڑاجاتی ہے جس کے سبب ان کا کردارمتاثر ہوتا ہے۔ حالانکہ اس سے قبل فواد خان بے شمار ڈراموں میں اپنی اداکاری کے جوہر دکھا چکے ہیں بالخصوص ’ویٹنگ فار گاڈو‘ نامی ایک ڈرامے میں ان کا

کردارانتہائی غضب کا تھا۔

napa-1
راحیل اور شہزادہ مارکس ایک سنجیدہ منظر میں

شہزادی ڈیسیا کا ڈرامے میں مختصر لیکن انتہائی اہم کردار ہے جسے کیف غزنوی انتہائی خوش اسلوبی کے ساتھ نبھاتی دکھائی دیتی ہیں اورڈرامے کے دوران پیش کیے جانے والے گانوں میں ان کی مدھر آواز بھی شامل رہی ہے۔

کھیل کے درمیان پارسی تھیٹر کی روایات کو زندہ کرنے کے لیے کامک کے حصے میں فنکاروں نے ایسی غضب کی اداکاری کے جوہر دکھائے ہیں کہ اس اندوہناک ڈرامے کے سحرمیں ڈوبے ناظرین پیٹ پکڑ کرہنسنے پرمجبورہوگئے۔

drama-post-2
کامی سین- شیر خان‘ اس کی بیوی فتنہ اور اس کا عاشق

ناپا ریپرٹری تھیٹر کی خاص بات یہ ہے کہ یہاں تکنیک کا بے حد خیال کیا جاتا ہے جس کے سبب یہاں پیش کیے جانے والے اپنی مثال آپ ہوتے ہیں تاہم زیرِ تذکرہ کھیل میں کچھ کمیاں بھی محسوس کی گئیں۔ کھیل دیکھنے والے ناظرین میں زیادہ تر تعداد نوجوان طبقے کی تھی جو کہ پارسی تھیٹر کی روایات سے ناواقف ہے لہذا کھیل کے آخر تک وہ تذبذب کا شکار رہے کہ آخر یہ کامک والے حصے کا کھیل سے کیا تعلق ہے۔ بہتر تھا کہ کھیل سے متعلق ضروری معلومات جو کہ ڈرامے سے محض چند لمحے قبل ایک بروشر کی شکل میں ناظرین کے ہاتھوں میں دی گئیں تھیں مختصراندازمیں ڈرامہ شروع ہونے سے قبل گوش گزارکردی جاتیں۔

ایک اور کمی جسے شدت سے محسوس کیا گیا وہ ڈرامے کا سیٹ اور کرداروں کے ملبوسات کا ناقص معیارتھا تاہم دو روز قبل کی جانے والی پریس کانفرنس میں ہدایت کار خالد احمد اس کی وضاحت کرچکے تھے کہ کم بجٹ کے سبب وہ پارسی تھیٹر کے ان معیارات کا سامنا نہیں کرسکتے۔

ایک انتہائی اہم غلطی جو کہ ڈرامے کے اسکرپٹ میں نظرآئی وہ یہ تھی کہ مذہبی پیشوا کی وضع قطع بالکل عیسائیوں کے مماثل تھی‘ یہاں تک کہ ایک مقام پر انہیں مقدس باپ کہہ کر بھی مخاطب کیا گیا جو کہ عیسائیوں کے مذہبی پیشوا کے لیے مختص ہے جبکہ اس ڈرامےمیں جس دور کی منظر نگاری کی گئی ہے اس کے تین سو سال بعد بھی عیسائی روم میں طاقت حاصل نہیں کرپائے تھے۔

drama-post-5
روم کا شاہی خاندان

ڈرامے کی کاسٹ دو حصوں پر مشتمل ہے جن میں سے ایک حصہ المیہ ہے جبکہ دوسرا مزاحیہ ہے جو کہ برصغیر کے تھیٹر کا خاصہ ہے۔ ڈرامے کے المیہ حصے میں اکبراسلام (مذہبی پیشوا)‘ فوادخان (شہزادہ مارکس)‘ نذرالحسن( عزرا یہودی)‘ ماریا سعدفریدی( راحیل)‘ کیف غزنوی ( شہزادی ڈیسیا)‘ عامرنقوی (روم کا بادشاہ)‘ سمحان غازی (رومن سپاہی)‘ مظہرسلیمان (رومن سپاہی)‘ فریال نوشاد ( شہزادی ڈیسیا کی کنیز) اوراشفاق احمد ( درباری) شامل ہیں۔

ڈرامے میں مزاح کا رنگ بھرنے والے اداکاروں میں فرحان عالم( شیر خان)‘ زرقا ناز(فتنہ)‘ فرازچھوٹانی(غفورخان)‘ عثمان مظہر(شیدا)‘ حمادخان (حماد خان) اورہانی طحہٰ (نازنین) شامل ہیں۔

drama-post-1
کامک سین کی مکمل کاسٹ

ڈرامے کی ہدایت کاری کے فرائض خالد احمد نے انجام دیئے ہیں جبکہ اس موسیقی ارشد محمود نے محض دو سازوں کی مدد سے ترتیب دی ہے جن میں طبلہ اور ہارمونیم شامل ہیں۔ ہارمونیم پرجولین قیصر اورطبلے پر بابرعلی پورے ڈرامے کے دوران محسور کن دھنیں بکھرتے رہےمجموعی طور ڈرامے نے اپنے ناظرین پر ایک اچھا تاثر مرتب کیا ہے اور یقیناً کراچی شہر کے بے یقینی کے ماحول میں یہ کھیل بالعموم اورتھیٹرکو پسند کرنے والے ناظرین کے لیے بالخصوص ایک تازہ ہوا کا جھونکا ثابت ہورہا ہے۔

ناپا ریپرٹری تھیٹر کے زیراہتمام پیش کیے جانے والے کھیلوں کی خاص بات یہ ہے کہ ان میں ہدایت کاری سے لے اداکاری تک سب اموراسی ادارے سے متعلقہ افراد کےذمے ہوتے ہیں اور کم بجٹ کے باوجود معیار کا بے پناہ خیال رکھا جاتا ہے۔

drama
ہدایت کار خالد احمد ناپا کے اراکین اور کاسٹ کےہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے

ڈرامے سے دو روز قبل ہونے والی پریس کانفرنس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ہدایت کارخالد احمد کا کہنا تھا کہ ’’ہم نے اپنی حد تک کوشش کی ہے کہ اداکاری اور گائیکی کے اسی انداز کو قائم رکھیں جو سنتے آئے ہیں کہ اس دور کے ڈراموں میں اپنایا جاتا تھااورجس کی جھلک ہندوستان کی ابتدائی فلموں میں موجود ہے۔چنانچہ ڈائیلاگ کی ادائیگی میں حقیقت پسندی سے احتراز ایک شعوری کوشش ہے‘‘۔

انہوں نے مزید کہا کہ ’’البتّہ سیٹ ڈیزائن‘ پوشاک اور تزئین کے معاملے میں ہم اس دور کی پیش کش کے معیار کا مقابلہ نہیں کر سکتے کیونکہ اس زمانے میں ان عناصر پر بے تحاشہ پیسہ خرچ کر کے(اس زمانے کے حساب سے کئی لاکھ) انہیں ایسا حیرت انگیز بنادیا جاتا تھا کہ تماشائی ششدررہ جائیں‘‘۔

یہ میلوڈرامہ کا ایک مخصوص انداز ہوتا تھا اور اس کے خاص عناصرتھے، ادائیگی میں خطابانہ گھن گرج، ہم قافیہ نثر، ڈائیلاگ کو پر اثربنانے کے لئے شاعری کا بکثرت استعمال، موقع بہ موقع گانوں کا استعمال اور کامیڈی (جسے کامک کہا جاتا تھا)۔

بعد میں جب برصغیر میں فلم سازی کا آغاز ہواتو اسی انداز کو بطور پیٹرن اپنا لیا گیا اورآج بھی پاکستان اورہندوستان کی بیشترفلمیں اسی فارمیٹ پربنتی ہیں۔







Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں