The news is by your side.

Advertisement

یمن، سابق صدر و فیلڈ مارشل علی عبداللہ، استعفیٰ سے قتل تک

سابق یمنی صدر علی عبداللہ صالح 75 سال کی عمر میں ایک ہفتے سے جاری حوثی باغیوں سے ہونے والی جھڑپ کے دوران قتل کردیئے گئے انہیں اُن کے مضبوط ترین علاقے صنعاء میں اُس وقت قتل کیا گیا جب وہ حوثی باغیوں کی پیش قدمی روکنے کے لیے جھڑپ میں مشغول تھے۔

علی عبداللہ صالح کے قتل سے 35 سالہ طاقت ور ترین دور حکومت بلآخر تمام ہوا جس میں طاقت ، مہارت اور سیاسی بصیرت کے مظاہر ے دیکھنے کو ملیں گے جن کے بل بوتے پر علی عبداللہ صالح نے مسائل اور خانہ جنگی کے شکار یمن میں اپنی حاکمیت قائم کی اور یہی نہیں بلکہ سویت یونین کے خاتمے کے بعد پیچیدہ صورت حال میں جنوبی اور شمالی یمن کو متحد کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا اور وہ متحدہ یمن کے پہلے صدر بھی منتخب ہوئے۔

علی عبداللہ 21 مارچ 1942 کو صنعاء سے 20 کلومیٹر دور ایک غیر معروف گاؤں میں پیدا ہوئے ان کا تعلق یمن کے سب سے بڑے قبیلے حاشد سے تھا انہوں نے 1953 میں شمالی یمن کی آرمی میں بہ طور انفنٹری سپاہی کے شمولیت اختیار کی اور پانچ سال بعد کمیشنڈ حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے اور سیکنڈ لیفٹیننٹ کے عہدے پر فائض ہوئے۔

انہوں نے شمالی یمن میں جاری خانی جنگی کے دوران اُس آرمی کور میں خدمات انجام دیں جس نے بعد میں یمن کے بادشاہ محمد البدر کے تخت کو الٹنے اور یمن عرب ری پبلک کے قیام میں کلیدی کردار ادا کیا اس دوران انہوں نے ٹینک کور میں اپنے جنگی جوہر دکھائے جس کے بعد علی عبداللہ کو میجر کے عہدے پر ترقی دے دی گئی۔

بعد ازاں علی عبداللہ نے عراق میں جنگی مہارت سے متعلق تربیتی پروگرام میں شرکت کی جس کے بعد انہیں کرنل کے عہدے پر ترقی دے دی گئی اور ان کی ذہانت اور صلاحیت دیکھتے ہوئے شمالی یمن کے صدر احمد بن حسین نے انہیں 1977 میں تعز کے علاقے میں ملٹری گورنر مقرر کردیا جو ان کا پہلا غیر عسکری عہدہ تھا جس نے سیاست کی سمجھ بوجھ دی۔

تاہم شمالی یمن کے صدر الغاشمی کے قتل کے بعد 1978 میں کرنل علی عبداللہ صالح کو چار رکنی عبوری صدارتی کونسل کا رکن مقرر کردیا گیا جس نے ہنگامی بنیاد پر حکومتی امور نبھائے علاوہ ازیں اس دوران علی عبداللہ کو ڈپٹی آف جنرل اسٹاف کمانڈر کی اضافی ذمہ داری بھی سونپی گئی تھی جو انہوں نے احسن طریقے سے نبھائی۔

چند ماہ بعد ہی 17 جولائی 1978 میں شمالی یمن کی پارلیمنٹ نے علی عبداللہ صالح کو صدرِ مملکت منتخب کرلیا جب کہ آرمڈ فورسز کے کمانڈر انچیف اور چیف آف آرمی اسٹاف کا عہدہ بھی انہوں نے اپنے پاس ہی رکھا ہوا تھا اپنے دور حکومت میں انہوں نے اپنے 7 بھائیوں کو اعلیٰ عہدوں پر فائز کیا اور اپنے بیٹوں، بیٹیوں اور سسرالی رشتہ داروں کو اعلیٰ عہدیں بانٹ کر ریاست میں اپنی گرفت مضبوط تر کرلی۔

شمالی یمن کی صدارت سنبھالتے ہی علی عبداللہ نے اپنی حکومت کے خلاف سازش کرنے پر 30 فوجی افسران کو پھانسی پر لٹکا دیا اور خود 1980میں میجر جنرل کے عہدے پر فائز ہو گئے اور اسی دوران  جنرل پیپلز جانگریس کے سیکرٹری جنرل بننے کے بعد سیاسی میدان میں بھی قدم جما نے میں کامیاب ہو گئے جس کے بعد 1983 میں وہ دوسری بار یمن عرب ری پبلک کے صدر منتخب ہو گئے۔

یمن کی تاریخ میں تاریخی موڑ اس وقت آیا جب سویت یونین کے خاتمے کے بعد جنوبی یمن مشکلات میں گھر گئی جس پر شمالی یمن اور جنوبی یمن نے 1990 میں متحدہ ریاست بننے کا فیصلہ کیا اور طویل بحث و مباحثے کے بعد علی عبداللہ صالح کو متحدہ یمن کا صدر اور سالم البیدھ کو نائب صدر منتخب کرلیا گیا۔

کویت جنگ کے دوران علی عبداللہ صالح نے عراق کے صدر صدام حسین کی حمایت کی تاہم عراق کے جنگ ہارنے کے بعد اس فیصلے کا خمیازہ یمن کی عوام کو اس صورت میں بھگتنا پڑا کہ جب کویت نے تمام یمنی ملازمین کو ملک بدر کردیا بعد ازاں عالمی طاقتوں کی جانب سے یمن میں یہودیوں کے داخلے کے لیے پاسپورٹ کے اجراء کے لیے عبداللہ صالح کو بھی دباؤ کا سامنا رہا۔

شمالی یمن اور جنوبی یمن کے ضم ہونے کے بعد پہلے باقاعدہ صدارتی انتخابات 1993 میں منعقد ہوئے جس میں علی عباللہ صالح کی جماعت جنرل پیپلز کانگریس نے بڑے پیمانے پر کامیابی حاصل کی اور یوں وہ تیسری بار صدر بننے میں کامیاب ہو گئے اور 1997 میں پہلے فیلڈ مارشل کے عہدے پر براجمان ہوئے۔

علی عبداللہ صالح نے 2006 میں ہونے والے صدارتی انتخابات میں بھی کامیابی حاصل کی اور یوں چوتھی بار صدر بن گئے تاہم 2011 میں تیونس میں آنے والے انقلاب کے بعد صورت حال یمن کے مستقل صدر کے حق میں سازگار نہیں رہی جس کی وجہ سے انہوں نے اعلان کیا وہ 2013 میں ہونے والے صدارتی انتخابات میں حصہ نہیں لیں گے تاہم حکومت کی جانب سے غیر مسلح شہریوں کے خلاف کارروائیوں پر ان کی اپنی پارٹی کے لوگوں کے استعفوں نے معامالات کو مزید گھمبیر کردیا۔

صورت حال کو دیکھتے ہوئے صدر علی عبداللہ نے ریفرنڈم کا اعلان کردیا جس کے دوران 52 افراد تشدد کے واقعات میں قتل ہو گئے جب کہ 200 سے زائد زخمی ہو گئے جس کی ذمہ داری لینے کے بجائے انہوں نے مقامی آبادی کو ہی قصور وار ٹہرایا۔

اس دوران اصلاھ پارٹی کے حامد الاحمر نے عوام میں مقبولیت حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے جب کہ انہیں امریکا کی آشیرباد حاصل تھی اور پے در پے عوامی مظاہروں اور حکومت مخالف جلسوں نے علی عبداللہ کو حکومت چھوڑنے پر مجبور کردیا جس کا باقاعدہ اعلان انہوں نے اپریل 2011 میں کیا تاہم وہ 30 دن کے ٹرانزیشن پیریڈ کے خواہاں تھے جس کے دوران انہیں جنگی جرائم کے مقدمات میں عدالتی استثنیٰ بھی حاصل ہو۔

تاہم ایک ماہ انہوں نے اپنے وعدہ کے برخلاف مستعفیٰ ہونے سے انکار کردیا جس کے باعث ایک بار پھر یمن میں ہنگامے پھوٹ پڑے اور اس دوران اُن پر چھ بار قاتلانہ حملے کیے گئے تاہم وہ معجزانہ طور پر محفوظ رہے جس کے بعد وہ 2011 میں سعودیہ عرب چلے گئے اور خلیجی ممالک کے درمیان تعلق کی تنظیم کے ساتھ طاقت اور اقتدار کی منتقلی سے متعلق دستاویزات پر دستخط کیے جس کے تحت وہ نائب صدر منصور ہادی کو اختیارات سونپ دیں گے جو جنرل پیپلز کانگریس اور جے پی ایم کے نمائندوں پر مشتمل حکومت تشکیل دیں گے۔

فروری 2012 میں صدر کے عہدے سے مستعفی ہونے والے علی عبداللہ صالح نے 2014 سے 2016 کے درمیان حوثی باغیوں کی معاونت کی اور اپنے حمایتی قبائل و فوجی اہلکاروں کو ملا کر حوثی باغیوں کے ساتھ الائنس بنالیا جو سعودی عرب کے فوجی اتحاد کے خلاف مشترکہ کارروائیاں کیا کرتے تھے تاہم 2017 میں حوثی باغیوں اور علی صالح کی فورسز کے درمیان علیحدگی ہو گئی جس کے بعد آج یہ خبر سامنے آئی ہے کہ حوثی باغیوں نے صنعاء پر قبضے کے دوران سابق صدر علی عبداللہ صالح کے گھر پر بمباری کرکے انہیں قتل کردیا ہے۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں