The news is by your side.

Advertisement

زینب ازخود نوٹس: 72 گھنٹے میں منطقی نتیجے پر پہنچا جائے: سپریم کورٹ

لاہور: سپریم کورٹ آف پاکستان لاہور رجسٹری میں آج زینب قتل کیس از خود نوٹس کی سماعت ہوئی‘ عدالت نے تحقیقات پر عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے 72 گھنٹوں میں منطقی نتائج تک پہنچنےکا حکم صادر کردیا۔

تفصیلات کے مطابق آج سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں فل بنچ نے کیس کی سماعت کی ۔ دورانِ سماعت جے آئی ٹی کی سماعت پر انہیں چیمبر میں بلایا گیا اور وہاں ان سے تفصیلات سنی گئی‘ سماعت کے بعد عدالت نے 72 گھنٹے میں منطقی نتیجے پر پہنچنے کا تحریری حکم نامہ جاری کردیا۔

چیف جسٹس کی سربراہی میں ہونے والی سماعت کے موقع پرقصور میں زیادتی کے بعد قتل ہونے والی کم سن زینب  کے چچااور دیگر متاثرہ بچے بچیوں کے والدین عدالت میں موجود تھے۔

مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کے سربراہ محمد ادریس نے عدالت کے روبرو اپنی رپورٹ پیش کرتے ہوئے بتایا کہ جون 2015 کے بعد سے پیش آنے والا یہ اب تک کا آٹھواں واقع ہے۔

جے آئی ٹی کے سربراہ نے اس موقع پر کہا کہ کچھ ایسی باتیں ہیں جوسب کے سامنے کمرۂ عدالت میں نہیں بتاسکتا۔ جس پر چیف جسٹس نے انہیں چیمبر میں طلب کرلیا اور کیس کی مزید سماعت بند کمرے میں جاری ہے ۔

سماعت مکمل ہونے پر فل بنچ نے تحریری حکم نامہ جاری کرتے ہوئے تفتیش کاروں کو بہتر گھنٹے میں منطقی نتائج پیش کرنےکا تحریری حکم صادرکردیا‘تفتیشی  اداروں کا کہنا تھا کہ تحقیق کے لیے مزید وقت درکار ہے۔

زینب قتل کیس‘ چیف جسٹس کا ازخود نوٹس

سماعت کے دوران چیف جسٹس نے استسفار کیا کہ دوتھانوں کی حدود مین مستقل واقعات ہورہے ہیں ‘ پولیس کیا کررہی ہے؟۔ انہوں نے سوال کیا کہ کس تھانے کا ایس ایچ او تین سال سے زائد عرصے تعینات ہے۔

عدالت نے پولیس کی رپورٹ پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آپ صرف ایک ہی رخ پر تفتیش کررہے‘ پولیس ڈی این اے سے باہر نکل کربھی تفتیش کرے۔ جسٹس منظوراحمدملک اس طرح تو21 کروڑ لوگوں کاڈی این اےکرناپڑےگا‘ معصوم بچی کے ساتھ جو ظلم ہوا ہے، وہ ناقابل بیان ہے۔

اس موقع پر ڈی پی او قصور اور آئی جی پنجاب کیپٹن ریٹائرڈ عارف نوازخان بھی عدالت میں موجود تھے‘ عدالت نے آئی جی پنجاب سے معاملے پر اب تک ہونے والی پیش رفت کی رپورٹ طلب کررکھی ہے۔

زینب قتل کیس میں تشکیل دی جانے والی جے آئی ٹی کے سابق سربراہ ابوبکر خدا بخش بھی اس موقع پر عدالت میں موجود ہیں‘ زینب کے والد کے اعتراض کے بعد ان کی جگہ محمد ادریس کو جے آئی ٹی کا سربراہ مقرر کیا گیا تھا۔ ابوبکر اس سے قبل 2015 کے قصور ویڈیو اسکینڈل کی تحقیقات کے لیے تشکیل دی جانے والی جے آئی ٹی کے سربراہ بھی رہ چکے ہیں۔

زینب کو قریبی گھر میں زیادتی کا نشانہ بنایا گیا، مالک مکان گرفتار

یاد رہے کہ معصوم زینب کے والد نے چیف جسٹس اور آرمی چیف سے مدد کی اپیل کی تھی، جس کے جواب میں‌ آرمی چیف کی جانب سے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے فوج کو سول انتظامیہ سے تعاون اور انصاف کے تقاضے پورے کرنے کی ہدایت کی تھی۔

واضح رہے کہ چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے بھی قصورواقعے کا نوٹس لیتے ہوئے سیشن جج قصور اور پولیس سے رپورٹ طلب کرلی ہے۔

آرمی چیف اور چیف جسٹس کے بعد وزیر اعلیٰ پنجاب بھی حرکت میں آگئے تھے ، وزیراعلیٰ پنجاب نے ڈی پی او قصور ذوالفقار احمد کو عہدے سے ہٹاتے ہوئے اعلان کیا تھا کہ اب وہ واقعے کی انکوائری کو لمحہ بہ لمحہ خود مانیٹر کریں گے‘ تاہم آج اس واقعے کو دو ہفتے گزر جانے کے باوجود اب تک یہ کیس کسی حتمی اختتام تک نہیں پہنچ سکا۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں