The news is by your side.

Advertisement

چیئرمین پی سی بی کے انتخاب کا طریقہ کار ‘آمرانہ قرار’

پاکستان کرکٹ بورڈ کے سابق چیئرمین ذکا اشرف کہتے ہیں کہ حکومت کی تبدیلی سے پی سی بی کا چیئرمین بھی تبدیل ہوجاتا ہے، سلیکشن کا یہ طریقہ کار آمرانہ ہے جمہوری نہیں۔

کرکٹ ویب سائٹ کے مطابق پی سی بی کے سابق چیئرمین ذکا اشرف نے کہا کہ سربراہ کی تعیناتی کا طریقہ کار ہی درست نہیں ہے کیونکہ پی سی بی میں سرپرست اعلی کی مرضی چلتی ہے، حکومت کی تبدیلی سے پی سی بی کا چیئرمین بھی تبدیل ہوجاتا ہے۔

ذکا اشرف کا کہنا تھا کہ پہلے آئی سی سی کی ہدایات کے مطابق چیف پیٹرن کو دو یا تین افراد کو نامزد کرنا ہوتا ہے جن میں سے کسی ایک کو قابلیت کی بنیاد پر بورڈ آف گورنرز منتخب کرتا ہے، پہلے ریجن کے نمائندے باری باری سے 2،دو سال کیلیے بورڈ آف گورنرز میں آتے تھے لیکن اب تو تمام ہی نامزد ہوتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: وارنر کے ساتھ دلچسپ واقعے پر شاہین نے کیا کہا؟

سابق وزیر اعظم عمران خان سے شکوہ کرتے ہوئے کہا ذکا اشرف نے کہا کہ عمران خان تو اپنے دور کے بڑے کرکٹر رہے ہیں مگر انہوں نے بھی کھیل کے معاملات میں مایوس کیا۔

سابق سربراہ نے کہا کہ میرے دور میں بورڈ میں دو سے پانچ لاکھ روپے کمانے والے بورڈ ملازمین کی تنخواہیں تو اب 15لاکھ تک پہنچ گئی ہیں، مگر دوسری جانب پچاس ہزار سے لاکھ روپے تک کمانے والے کھلاڑیوں کے گھروں کے چولہے ٹھنڈے کردیئے گئے ہیں۔

ڈیپارٹمنٹل کرکٹ پر گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ڈپارٹمنٹس کی ٹیموں کو فارغ کرکے کرکٹرز کو بے روزگار کرنا دانشمندانہ فیصلہ نہیں تھا کیونکہ اس اقدام سے کئی کھلاڑی رکشہ چلاکر یا دیگر ذرائع سے روزی روٹی کمانے پر مجبور ہوچکے ہیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں