تعزیراتِ پاکستان کے تحت مختلف جرائم کی سزائیں -
The news is by your side.

Advertisement

تعزیراتِ پاکستان کے تحت مختلف جرائم کی سزائیں

ہمارے وطن پاکستان میں مجرمانہ کاروائیوں میں آئے دن اضافہ ہوتا جارہا ہے اوراس کی بنیادی وجہ قانون سے ناواقفیت ہے۔ تعزیراتِ پاکستان میں ہرجرم کی ایک مخصوص سزا ہے یہاں چند انتہائی اہم جرائم اور ان کی سزا کی فہرست پیش کررہے ہیں۔

قتل:

انسانی جان چاہے کسی بھی مقصد سے لی جائے ایک بڑا جرم ہے اور تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 302 قتلِ عمد میں عائد کی جاتی ہے جس کے تحت دو طرح کی سزائیں ممکن ہیں

قصاص: یہ ایک اسلامی سزا ہے جس کے تحت ریاست کو اختیار ہے کہ مقتول کی جان بدلے قاتل کی جان لے لی جائے۔

عمرقید: اگر قتل کے ثبوت ناکافی ہوں یا کسی مخصوص حالات کے تحت مجرم کو قصاص کے بجائے عمر قید کی سزا دی جاتی ہے جو کہ عموماً 14 سال کی ہوتی ہے لیکن 25سال تک بڑھائی جاسکتی ہے۔

جنسی زیادتی (ریپ):

پاکستان سمیت دنیا بھرمیں جنسی تشدد کی کاروائیاں بڑھتی جارہی ہیں، تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 367 کے تحت جنسی تشدد کو بڑا جرم قرار دیا گیا ہے اور اس کی دو طرح کی سزا تجویز کی گئی ہے۔

قانون کے مطابق زیادتی کا ارتکاب کرنے والے مجرم کو سزائے موت یا کم سے کم دس سال اور زیادہ سے زیادہ 25 سال قید کی سزا دی جاسکتی ہے۔ سزا کی معیاد کا تعین کیس کی نوعیت پر ہوتا ہے اور مجرم پر بھاری جرمانہ بھی عائد کیا جاتا ہے۔

دوسری جانب اجتماعی زیادتی کی صورت میں ملوث تمام تر افراد کو سزائے موت یا عمرقید کی سزا دی جاسکتی ہے۔

ڈکیتی:

ڈکیتی بذاتِ خود ایک سنگین جرم ہے اور تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 392 کے تحت کم سے کم تین سال اور زیادہ سے زیادہ 14 سال کی سزا دی جاسکتی ہے۔ سزاکی معیاد کا تعین واردات کی سنگینی کی نوعیت پر ہوتا ہے۔

بھتہ خوری:

پاکستان کے معاشی حاکات کے تناظر میں بھتہ خوری ایک تیزی سے مقبول ہوتا جرم ہے اور تعزیراتِ پاکستان دفعہ 384 کے تحت اس کی سزا تین سال قید یا جرمانہ یا بیک وقت دونوں ہے۔ ملک میں بھتہ خوری کے بڑھتے ہوئے رحجان کے باعث بھتہ خوری کی سزا بڑھانے پرغور کیا جارہا ہے۔

توہینِ مذہب:

پاکستان مین توہینِ مذہب ایک انتہائی سنگین جرم ہے اور اس کے مرتکب کی ضمانت نہیں ہوتی ہے۔ تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 295بی اور 295 سی کے تحت اس جرم کی سزا دی جاتی ہے۔

دفعہ 295 بی کے تحت توہینِ قرآن کے مجرم کو عمر قید کی سزا دی جاتی ہے۔

توہینِ رسالت کے مجرم کو دفعہ 295 سی کے تحت سزائے موت، عمر قید اور جرمانے کی سزا دی جاتی ہے۔

کرپشن:

پاکستان کی معیشت کو کھوکھل اکرنے میں کرپشن کا بہت بڑا کردار ہے اور اسکی روک تھام کے لئے وفاقی حکومت کی جانب سے ’قومی ادارہ برائے احتساب‘(نیب) تشکیل دیا گیا۔

نیب ایک خودمختار ادارہ ہے جو کہ کرپشن میں ملوث ملزمان کو گرفتار کرکے تحقیق کرنے اور سزا دینے کا مجاز ہے، نیب سے سزا یافتہ ملزمان دس سال تک کوئی بھی سیاسی عہدہ رکھنے کے اہل نہیں ہیں۔

بجلی اور گیس کی چوری:

تعزیراتِ پاکستان کی دفعی 379 کے تحت بجلی اور گیس کی چوری کا ارتکاب کرنے والوں کو تین سال قید یا جرمانے کی سزا ہوسکتی ہے اور بعض صورتوں میں دونوں سزائیں لاگو ہوتی ہیں۔

سائبر جرائم:

پاکستان میں جیسے جیسے ٹیکنالوجی کی استعمال بڑھتا جارہا ہے ویسے ویسے سائبر جرائم کی تعداد بھی بڑھتی جارہی ہے اسی لئے حال میں سائبر جرائم پر سزاؤں کا ایک بل منظور کیا گیا ہے۔

بل میں مختلف نوعیت کے جرائم کے لئے مختلف سزائیں تجویز کی گئیں ہیں اور اس میں کم سے کم سزا چھ ماہ قید اور پچاس ہزار رہپے جرمانہ جبکہ زیادہ سے زیادہ ایک سال قید اور دس لاکھ روپے جرمانہ کی سزا ہوسکتی ہے۔

انسانی اسمگلنگ:

پاکستان میں انسانوں کی اسمگلنگ ایک سنگین جرم ہے اور تعزیراتِ پاکستان کے تحت اس جرم میں ملوث افراد کو کم سے کم پانچ سال اور زیادہ سے زیادہ 14 سال کی سزا اور بھاری جرمانہ کیا جاسکتا ہے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں