The news is by your side.

سائفر کے معاملے پر صدر مملکت کا اہم بیان

اسلام آباد: صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کا سائفر کے معاملے پر اہم بیان سامنے آگیا۔

اے آر وائی نیوز کے مطابق صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کا کہنا ہے کہ سازش کی حقیقت پر قائل نہیں لیکن شکوک و شبہات ضرور ہیں۔

انہوں نے کہا کہ میں نے چیف جسٹس کو بھی اسی لیے بھیجا کہ میرے شکوک و شبہات ہیں، بہتر ہوگا کہ اس معاملے پر واقعاتی شہادتیں لے لی جائیں۔

واضح رہے کہ چند روز قبل حکومتی اتحادی جماعتوں نے سائفر معاملہ منطقی انجام تک پہنچانے اور ذمہ داران کے خلاف کارروائی کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔

حکومتی اتحادی جماعتوں کا سائفر معاملہ منطقی انجام تک پہنچانے کا فیصلہ

اعلامیہ میں بتایا گیا تھا کہ سائفر میں رد وبدل کی تحقیقات پر کابینہ کے فیصلوں اور حکومتی اقدامات کی تائید و حمایت کی گئی، ایف آئی اے کی ٹیم قومی مفادات پر ضرب لگانے کے معاملے پر تحقیقات جلد مکمل کرے، آئین و قانون کے مطابق ملوث کرداروں کے خلاف قانونی تقاضے پورے کرنے کا عمل تیز کرے۔

اجلاس میں کہا گیا تھا کہ اداروں کو آئین کی راہ سے ہٹانے والا غدار، سازشی اور فسادی ہے اس آئین شکن کو قانونی نکیل ڈالنا خود آئین کا تقاضا ہے۔

اے آر وائی نیوز کے پروگرام ’سوال یہ ہے‘ میں چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کا کہنا تھا کہ صدر مملکت سائفر چیف جسٹس کو بھجواچکے ہیں وہ کہہ دیں غلط ہے ہم اگلے دن اسمبلی چلےجائیں گے۔

‘چیف جسٹس کہہ دیں سائفر غلط ہیں، ہم اگلے دن اسمبلی میں چلے جائیں گے’

سابق وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سائفرمعاملےکو قومی سیکیورٹی کمیٹی کےسامنےرکھنےکےبعد ہم نے پبلک کیا، قومی سیکیورٹی کمیٹی میں فیصلہ کرچکے تھے کہ سائفر کو ڈی مارش کیا جائے، ڈی مارش کرنےسے پہلے ہماری جانب سے کسی ملک کا نام نہیں لیا گیا، ڈی مارش کرنےکےبعد سب کو پتہ چل گیا کہ کون سےملک سےسائفرآیا؟

 

Comments

یہ بھی پڑھیں