site
stats
انفوٹینمنٹ

دنیا کی وہ جگہ جہاں تیل کوڑیوں کے بھاﺅ بکتا ہے

بغداد: عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت میں کمی کے بعد اکثر تیل پیدا کرنے والے ممالک تقریباً 80 ڈالر فی بیرل کے حساب سے خام تیل بیچ رہے ہیں لیکن دنیا کا کوئی بھی ملک اتنا سستا تیل نہیں بیچ رہا جتنا سستا عسکریت پسند تنظیم دولت اسلامیہ داعش بیچ رہی ہیں۔

شام کے بعد عراق میں بھی تیل کی کئی اہم تنصیبات داعش کے قبضے میں آچکی ہیں اور ان میں شمالی صوبے کرکوک کی تنصیبات بھی شامل ہیں، جنہیں ملک کی سب سے پرانی تیل تنصیبات میں شمار کیا جاتا ہے۔

اخبار ٹائمز آف عراق نے عراقی وزارتِ خزانہ کے سینئر افسر موافق طہٰ کے حوالہ سے بتایا ہے کہ کرکوک ریفائنری کے زیادہ تر حصہ پر داعش کا قبضہ ہے اور یہاں سے حاصل ہونے والے تیل کو تقریباً 20 ڈالر (تقریباً 2000 پاکستانی روپے) فی بیرل کے حساب سے فروخت کیا جارہا ہے جبکہ دنیا کے کسی بھی حصے میں اس قدر سستے تیل کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔

وزارت خزانہ کے نمائندہ کا کہنا ہے کہ سفارتی ایجنسی اور وزارت تیل ان لوگوں کا سراغ لگانے کی کوشش کررہی ہے، جو بلیک مارکیٹ میں داعش سے سستا تیل خرید رہے ہیں تاکہ بین الاقوامی برادری سے ان کا قلع قمع کرنے کی درخواست کی جاسکے۔

ایک اندازے کے مطابق داعش تیل کی فروخت سے یومیہ 30 لاکھ ڈالر (تقریباً 30 کروڑ پاکستانی روپے) کمارہی ہے۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top