site
stats
سندھ

اے ڈی خواجہ ایکشن میں آگئے، پولیس کے تمام تقرری اورتبادلےمنسوخ

کراچی :آئی جی سندھ نے سات جولائی سے محکمہ پولیس میں ہونے والے تمام تبادلے اور تقرریاں منسوخ کردی ہیں، پانچ ڈی آئی جیزنے سندھ پولیس سےعلیحدگی اختیارکرلی، سعید غنی کا کہنا ہے کہ آئی جی کو رکھنےکا فیصلہ عدالتوں کااختیار نہیں ہے۔

تفصیلات کے مطابق سندھ میں آئی جی اور حکومت کے درمیان سرد جنگ مزید شدت اختیار کرگئی، سندھ ہائیکورٹ کی جانب سے عہدے پر بحالی کے ہونے والے فیصلے کے بعد آئی جی سندھ اے ڈی خواجہ ایکشن میں آگئے۔

انہوں نے محکمہ پولیس میں سات جولائی کے بعد ہونے والے تمام ٹرانسفر اور پوسٹنگ منسوخ کرنے کا نوٹی فکیشن جاری کردیا ہے۔ آئی جی سندھ کے مذکورہ فیصلے کے بعد پولیس افسران تذبذب کا شکار ہیں۔

افسران کوسات جولائی سے پہلے والی پوزیشن پر واپس جانے کا حکم دے دیا گیا۔ ذرائع کے مطابق پانچ ڈی آئی جیز نے سندھ پولیس سے علیحدگی اختیارکرلی، جن میں ڈی آئی جی ایسٹ عارف حنیف نے عہدے کا چارج چھوڑ دیا ہے، اس کا نوٹیفکیشن جاری کردیا گیا۔

ڈی آئی جی امیرشیخ اور منیرشیخ ایف آئی اے میں جارہے ہیں، ڈی آئی جی سلطان خواجہ اورامین یوسفزئی کی کورس پر روانگی کی تیاری ہے۔


مزید پڑھیں: سندھ حکومت آئی جی سندھ کیس کےفیصلےکوچیلنج کرے گی


سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آئی جی سندھ اور صوبائی حکومت کے درمیان سرد جنگ کا اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا اس کا جواب تو وقت دے گا لیکن اس وقت پولیس افسران صورتحال سے خاصے پریشانی میں مبتلا ہیں۔


مزید پڑھیں: افسرکوچھٹی کیوں دی؟ حکومت کا اے ڈی خواجہ سے جواب طلب


دوسری جانب پیپلز پارٹی کے ایم پی اے سعید غنی نے کہا ہے کہ آئی جی کو رکھنے کا فیصلہ عدالتوں کا اختیار نہیں، آئی جی سندھ اسمبلی کےسامنے جوابدہ ہیں، چیف منسٹر اورچیف سیکریٹری آئی جی سندھ کو جوابدہ نہیں،21گریڈ کا آئی جی اپنے ہی گریڈ کے افسران کے تبادلے کرتا ہے۔

کراچی میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پیپلز پارٹی کے سینیٹر سعید غنی کا کہنا تھا کہ آئی جی سندھ سے متعلق فیصلے کو عدالت میں چیلنج کریں گے،

انہوں نے کہا کہ مہاجروں سے متعلق فاروق ستار نے قابل اعتراض بات کہی، یہ انداز بانی ایم کیو ایم کے جیسا ہے ان کا کام اب فاروق ستار کر رہے ہیں، کراچی میں ہر قومیت کے لوگ دہشت گردی کا شکار ہوئے ہیں، فاروق ستار کو اپنے بیان پر معافی مانگنی چاہیے۔

سعید غنی نے کہا کہ آئی جی کو رکھنے کا فیصلہ عدالتوں کا نہیں ، سندھ میں جو صوبائی حکومت نے جو احتساب ادارہ بنایا اس میں ہم نے سندھ اسمبلی کو اختیار دیا کہ اس کے سربراہ کا تعین وہ کرے لیکن اس معاملے کو الگ رنگ دے دیا گیا۔

 

 

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top