The news is by your side.

Advertisement

میشا شفیع ہراسانی کیس، علی ظفر نے عدالت میں دو ڈبے بھر کر ثبوت پیش کردیے

لاہور: بین الاقوامی شہرت یافتہ گلوکار و اداکار علی ظفر نے میشا شفیع کے خلاف عدالت میں دو ڈبے بھر کر ثبوت پیش کردیے جس میں تصاویر و دیگر اہم چیزیں شامل ہیں۔

تفصیلات کے مطابق گلوکارعلی ظفر کی جانب سے دائر کردہ ہتک عزت کے دعوے کے کیس کی سماعت لاہورکے سیشن کورٹ میں ہوئی، جہاں علی ظفر نے جج کو اپنا تفصیلی بیان قلم بند کروایا۔

علی ظفر نے عدالت کو بتایا کہ میشا شفیع اور اُن کی دوستوں نے مجھ پر ہراساں کرنے کا بے بنیاد الزام عائد کیا، لہذا انہیں عدالت میں طلب کیا جائے۔ گلوکار نے عدالت میں دو ڈبے پیش کیے جن میں شواہد موجود تھے۔ علی ظفر کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ شواہد میں  واٹس ایپ پیغام، سوشل میڈیا کے جعلی اکاؤنٹس و دیگر دستاویزات شامل ہیں۔

مزید پڑھیں: علی ظفر کی میشا شفیع کو ایک بار پھر معافی مانگنے کی پیش کش

پاکستانی گلوکار و اداکار نے عدالت میں بتایا کہ میشا شفیع کی ایک دوست نے مجھ پر الزام عائد کیا کہ میں نے اے لیولز انٹر میں انہیں ہراساں کیا جبکہ حقیقت یہ ہے کہ میں نے اے لیولز سے پڑھا ہی نہیں ہے۔ علی ظفر نے عدالت میں اپنی تعلیمی اسناد بھی پیش کیں۔

یاد رہے کہ علی ظفرنےمیشاشفیع کے خلاف 100کروڑ روپے ہر جانےکادعویٰ دائرکر رکھا ہے۔ سیشن جج نے مزید گواہوں کو شہادتوں کے لیے طلب کرتے ہوئے مزید سماعت 15 جولائی تک ملتوی کردی۔

قبل ازیں یکم جولائی کو ہونے والی سماعت کے موقع پر علی ظفر نے خود کو بے گناہ قرار دیتے ہوئے عدالت میں مؤقف اختیار کیا تھا کہ انہوں نے کبھی میشا شفیع یا کسی کو بھی ہراساں نہیں کیا البتہ میشا مجھے متعدد بار دھمکاتی رہی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: علی ظفر نے میشا شفیع کے خلاف بیان قلم بند کروادیا

اُن کا کہنا تھا کہ بالی ووڈ کی سات فلموں میں مرکزی کردار ادا کیا، ان فلموں میں تیرے بن لادن، میرے برادر کی دلہن بھی شامل ہیں،کئی قومی و بین الاقوامی ایوارڈز حاصل کئے، میں ایشیاء کے خوبصورت ترین  مرد ہونے کا بھی ایوارڈ حاصل کرچکا ہوں، اس قسم کے الزامات میری ساکھ کو بری طرح سے نقصان پہنچا رہے ہیں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں