The news is by your side.

Advertisement

اسپیس ایکس کا ایک اور تاریخی مشن شروع

واشنگٹن: امریکا میں خلائی تحقیق کے ادارے ناسا نے نجی کمپنی کے تیار کردہ راکٹ میں چار خلابازوں کو انٹرنیشنل خلائی اسٹیشن پر روانہ کردیا ہے۔

بین الاقوامی میڈیا رپورٹ کے مطابق اسپیس۔ ایکس فالکن نائن راکٹ کو چار خلا بازوں کے ہمراہ فلوریڈا کے کینیڈی اسپیس سینٹر سے روانہ کیا گیا، ناسا کا پہلا مکمل مشن ہے جس میں عملے کو نجی ملکیت میں خلائی جہاز کے مدار میں بھیجا گیا ہے۔

ناسا نے اسپیس ایکس کا نیا ڈیزائن تیار کیا ہے، اس ڈریگن کیپسول کو عملے نے لچک کا نام دیا ہے، ناسا کے خلا باز سائنسی تحقیقات کے لئے چھ ماہ تک خلا میں قیام کریں گے۔

دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ یہ ایک شاندار پرواز تھی، جب ہم بر سر اقتدار آئے تھے تو اس وقت ناسا شدید بحران سے دو چار تھا، اب یہ دوبارہ سے اپنی پرانی ساکھ کو بحال کرتے ہوئے دنیا کا جدید ترین خلائی مرکز بن چکا ہے۔

نو منتخب صدر جو بائڈن نے بھی ناسا اور اسپیس ایکس کو مبارکباد پیش کی ہے، اپنے ٹوئٹر پیغام میں انہوں نے لکھا ہے کہ یہ عمل سائنسی طاقت ، تخلیق و عزم کی بدولت کیا کچھ کر سکنے کی دلیل ہے۔

اس سے قبل امریکا کے خلائی تحقیقاتی ادارے دی نیشنل ایروناٹکس اینڈ اسپیس ایڈمنسٹریشن (ناسا) کا خلائی جہاز تاریخ میں پہلی بار بینوں‌ نامی سیارچے پر کامیابی سے اترا تھا، ناسا نے تصدیق کی کہ تاریخ میں پہلی بار ناسا کے خلائی جہاز نے ’بینوں‘ نامی پر کامیاب لینڈنگ کی جہاں سے ماہرین نے مٹی اور پتھر اکھٹے کیے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:  خلا بازوں کو ملی تاریخی کامیابی، ناسا نے تصاویر اور ویڈیوز جاری کردیں

ناسا کے مطابق جاپان کا یہ خلائی جہاز جلد زمین پر واپس آئے گا، جس کے بعد حاصل کیے جانے والے نمونوں کا مشاہدہ کیا جائے گا۔

تحقیقاتی ادارے نے اعلامیے میں بتایا کہ امریکی وقت کے مطابق 20 اکتوبر کی دوپہر کو ’اوسائرس ریکس‘ نامی خلائی جہاز عمارت جتنے بڑے سیارچے پر پہنچا اور پھر وہاں سے 60 گرام کے قریب دھول، مٹی اور پتھر حاصل کیے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں