site
stats
سائنس اور ٹیکنالوجی

زحل اور اس کے حلقوں کے درمیان عظیم خلا

خلائی جہاز کیسینی کا نظام شمسی کے چھٹے سیارے زحل اور اس کے گرد موجود دائروں یا حلقوں کے درمیان سفر جاری ہے اور اس دوران نئے نئے انکشافات سامنے آرہے ہیں۔

کیسینی اپنے سفر کے اختتامی مراحل میں داخل ہوچکا ہے۔ اس کے سفر کا آخری مرحلہ سیارہ زحل اور اس کے خوبصورت حلقوں کے درمیان 22 غوطے لگانا ہے۔

اپنے پہلے غوطے کے دوران کیسینی سے موصول ہونے والے ڈیٹا سے سائنسدانوں کو معلوم ہوا کہ سیارہ زحل اور اس کے حلقوں کے درمیان موجود جگہ کسی بھی قسم کی گیس یا گرد، دھول، مٹی کے ذرات سے پاک ہے اور یہاں کی فضا مکمل طور پر خالی ہے۔

سائنس دانوں نے اس خالی جگہ کو عظیم خلا کا نام دیا ہے۔

یہ غوطہ سیارہ زحل اور اس کے سب سے قریبی حلقے کے درمیان تھا جو تقریباً 24 سو کلو میٹر کا فاصلہ ہے۔ ناسا کے مطابق یہ وہ مقام ہے جہاں آج سے پہلے کوئی خلائی جہاز نہیں پہنچ سکا۔

مشن سے منسلک سائنس دانوں کو امید تھی کہ یہ خالی جگہ گرد سے آلودہ ہوگی اور جب گرد کے یہ ذرات کیسینی سے ٹکرائیں گے تو نہ صرف بہت شور پیدا ہوگا بلکہ کیسینی کو خود کار نظام کے تحت اپنے اوپر ایک حفاظتی خول بھی چڑھانا پڑے گا تاکہ وہ ان ذرات کے باعث نقصان سے محفوظ رہ سکے۔

تاہم جب کیسینی اس خلا میں داخل ہوا تو سائنسدانوں کو جھٹکا لگا کیونکہ انہیں بہت کم شور سنائی دیا جبکہ کیسینی کو ڈھال فراہم کرنے کے لیے اس کا خود کار نظام بھی حرکت میں نہیں آیا۔

مشن کے سربراہ ایرل میز کا کہنا ہے، ’ہم گن سکتے ہیں کہ ہم نے کتنی بار ننھے ذرات کی کیسینی سے ٹکرانے کی آواز کو سنا۔ یہ ہماری توقع کے بالکل برخلاف تھا‘۔

ان کے مطابق اس پہلے غوطے سے حاصل ہونے والے ڈیٹا کی بنیاد پر زمین پر موجود سائنس دانوں اور کیسینی کے خود کار نظام کو حکمت عملی طے کرنی تھی کہ کیسینی کے اگلے 21 غوطوں کے دوران کیا حالات پیش آسکتے ہیں اور ان سے کیسے نمٹنا ہوگا۔

ساتھ ہی وہ یہ جاننے کی کوششوں میں بھی مصروف ہیں کہ زحل کے اس مقام پر گرد کی سطح اس قدر کم کیوں ہے۔

کیسینی کا سفر

یاد رہے کہ خلائی جہاز کیسینی گزشتہ 13 سالوں سے زحل سے ایک محفوظ فاصلے پر اس کے بارے میں تحقیق اور تصاویر زمین کی طرف روانہ کر رہا تھا۔

اس سارے سفر کے دوران کیسینی زحل سے ایک محفوظ فاصلے پر رہا ہے اور اس نے زحل کی فضا یا اس کے حلقوں سے ٹکرانے کی کوشش نہیں کی۔

تاہم اب یہ اس کے سفر کا آخری مرحلہ ہے جس میں آئندہ 22 ہفتوں کے دوران یہ زحل کی فضا اور اس کے حلقوں کے گرد تقریباً 22 غوطے لگائے گا اور ہر غوطے میں اس سے قریب تر ہوتا چلا جائے گا۔

اس دوران یہ زحل کی واضح تصاویر بھی زمین کی طرف روانہ کرتا رہے گا۔

اپنے آخری یعنی 22 ویں چکر میں یہ زحل کی فضا میں داخل ہوجائے گا اور انتہائی تیز رفتاری سے زحل کی فضاؤں کے ساتھ رگڑ کھا کر جل اٹھے گا اور اس کے ساتھ ہی کیسینی کا سفر اختتام پذیر ہوجائے گا۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top