آفاقی عشق کی لازوال داستاں – دوام -
The news is by your side.

Advertisement

آفاقی عشق کی لازوال داستاں – دوام

منتہیٰ گزشتہ دس دن سے ایس ٹی ای کے برین ونگ کارکنان کے ساتھ آزاد کشمیر اور جہلم کے درمیانی علاقے میں اپنے نئےپراجیکٹ پر کام کے آغاز کے لیے پوری طرح سر گرم تھی ۔۔ شدید مصروفیات کے باعث پاؤں کا درد سِوا ہو چکا تھا ۔۔ وہ دردسے نڈھال کمرے میں آکر لیٹی ہی تھی کی سیل تھرتھرایا ۔۔
تم میڈیسن کب سے نہیں لے رہی ہو۔۔؟؟ کوئی تھا جو اُس کے درد کو بتائے بغیر جاننے لگا تھا ۔۔
ابھی لی ہیں ۔۔ اُس نے لیٹے لیٹے جواب دیا ۔۔اٹھنے کی ہمت کس میں تھی ۔
وہ تم نے درد کو انتہا پر پہنچا کر لیں ہیں ۔۔ ارمان کا لہجہ درشت ہوا ۔
آپ کو کیا پتا ۔۔ آپ کوئی یہاں ہیں۔۔؟؟


اسی ناول کی گزشتہ اقساط پڑھنے کے لیے کلک کریں


’’منتہیٰ بی بی ۔۔ میرا خیال ہے کہ مجھے اِس وضاحت کی قطعاً ضرورت نہیں ہے ‘‘۔۔ اُسکا لہجہ برفیلا تھا ۔۔
ہم مم۔۔ لمبی سی ہم کر کے منتہیٰ نے ارمان کی نقل اتاری۔
ملو تم مجھے ۔۔ لیتا ہوں میں تمہاری خبر ۔۔۔
میں ہفتہ دس دن تک نہیں آنے والی ۔۔ منتہیٰ نے اُسےِ چڑایا ۔
جی نہیں ۔۔ میں نے ونگ کمانڈر آزر کو کہا ہے ۔۔وہ کل تمہیں یہاں پہنچائے گا ۔۔ایس ٹی ای کی میٹنگ میں تمہاری شرکت
ضروری ہے ۔
واٹ ۔۔؟؟ ایسی کیا خاص بات ہے ۔۔؟؟
خاص ہی ہے ۔۔آؤ گی تو پتا لگ جائے گا ۔۔ اور اب آرام کرو سمجھیں ۔۔ وہ ڈانٹ کر کال کاٹ چکا تھا ۔۔ منتہیٰ نے سکون
سے آنکھیں موندیں ۔۔ اس کی یہ ڈانٹ کتنی اچھی لگتی تھی ۔
اگلے روز مصروفیت اور موسم کی خرابی کے باعث ۔۔ وہ میٹنگ سے کچھ دیر پہلے چھ بجے ہی ایس ٹی ای آفس پہنچ سکی ۔اُسے
حیرت ہوئی وہاں کسی فنکشن کی تیاریاں تھیں ۔
منتہیٰ کی نگاہیں ارمان کی متلاشی تھیں کہ کسی نے پیچھے سے نرمی کیساتھ اسکا ہاتھ تھاما۔
وہ چونک کر مڑی ۔۔ آپ تو کہہ رہے تھے کہ میٹنگ ہے ۔۔ پر یہاں ۔۔اس نے انتظا مات کی طرف اشارہ کیا
ہاں یہاں ایک چھوٹی سی تعارفی تقریب ہے ۔!!
واٹ۔۔؟؟ کس چیز کی ۔۔؟؟ اُس نے مڑ کر سٹیج کی طرف دیکھا ۔۔ بینر لگا تھا
Cosmology in the light of Holy Quran …. By Muntaha Arman
’’ایک تعارف ۔۔ایک جائزہ ‘‘
منتہیٰ نے مڑ کر خوشگوار حیرت سے ارمان کو دیکھا ۔۔ وہ ہمیشہ ایسی ہی سرپرائز دیتا تھا ۔
تقریب میں ڈاکٹر یوسف اور ڈاکٹر عبدالحق کے علاوہ کئی نامور شخصیات نے منتہیٰ کی اِس کاوش کو بھرپور سراہا ۔۔ یہ ایک ایسی معلوماتی کتاب تھی ۔۔ جس پر آج تک کسی عالمِ دین ،کسی مولوی نے قلم نہیں اٹھایا تھا ۔۔ مقامی طور پر اِس کتاب کو سیو دی ارتھ پبلکشن ہاؤس نے شائع کیا تھا ۔۔جبکہ اس کا ایک مسودہ۔ ارمان پینگوئن پبلیکیشنز نیو یارک کو بھی بھیج چکا تھا ۔
ایس ٹی پبلیکیشنز کے تحت ارمان کی اپنی سات سالہ جدوجہد کی داستان The routes I passed by …. بھی جلد ہی منظرِ عام پر آنے والی تھی ۔۔
تقریب کے بعد ۔۔منتہیٰ ایس ٹی ای کے کارکنان کو اپنے آٹو گراف کے ساتھ بک دیتی رہی ۔
“آٹو گراف پلیز میم ‘‘۔۔ ارمان نے ایک جلد اُس کی طرف بڑھائی ۔۔ کچھ سوچتے ہوئے منتہیٰ نے لکھنا شروع کیا ۔۔

Sitting next
to you …
Is like
Taking a sip of eternity
The sun , the stars , the sky
Never tasted so good..!!
(Christy ann martine )

************

تھر اور چولستان میں سیو دی ارتھ کے پراجیکٹس کامیابی کے ساتھ مکمل ہونے کو تھے ۔۔انہوں نے بہت قلیل مدت اور نا کافی ذرائع کے با وجود وہاں قحط ، خشک سالی او روبائی امراض پر قابو پانے کے لئے ہیلتھ سینٹرز کے علاوہ فوڈ اینڈ ڈیزاسٹرسینٹر قائم کیے تھے جبکہ اگلا مرحلہ اسی سٹر ٹیجی کو بلوچستان کے خشک سالی سے متاثرہ علاقوں پر لاگو کرنے کا تھا۔ لیکن انھیں علم تھا کہ بلوچستان ایک اپنے وسیع رقبے اور امن و امان کی خرابصورتحال کے باعث ایک شدید کٹھن ٹاسک تھا۔کئی ماہ کی پلاننگ کے بعد وہ بلوچستان میں ایسی تکنیکس کا آغاز کرنے جا رہے تھے جو جنوبی افریقہ ، ایتھوپیا ، چاڈ ، نائجر ،سوڈان اور مالی وغیرہ میں طویل خشک سالی سے نمٹنے میں کافی کارآمد ثابت ہوچکی ہیں ۔
بلوچستان اور ان افریقی ممالک میں ایک مشابہت یہ بھی ہے وہاں بھی مقامی افراد کی اکثریت نا خواندہ ہے اور ڈیزاسٹر سے از خود نمٹنے کی اہلیت نہیں رکھتی۔صورتحال کو بگاڑنے میں ایک بڑا ہاتھ مقامی باشندوں کابھی ہے ، بارشوں کے موسم میں پانی کو مستقبل کی بدترین حالات کے لیے ذخیرہ کرنے کے بجائے بے دریغ استعمال کیا جاتا ہے ۔ خشک سالی عارضی ہو یا طویل المدت ، بہرحال ایک
نہ ایک دن ختم ہو ہی جاتی ہے اور بارشوں کے موسلا دھار برستے ہی ان علاقوں کے رہائشی اپنی زمینوں اور گھروں کو آباد کرنے کے لیے لوٹ آتے ہیں ۔ مگر سالہا سال کی مشقت اور ، کٹھن اورجان لیوا حالات سے گزرنے کے باوجود پرانی عادتیں بھی ساتھ لوٹ آتی ہیں
اور اسی وجہ سے حکومتی کوششیں بھی زیادہ کامیاب نہیں ہوتی۔ اگر کمیونٹی کی سطح پر کوششیں جاری رکھتے ہوئے قابل ِکاشت رقبے کو کم کر کے سیب اور خوبانی کی جگہ انار یا کم پانی استعمال کرنے والی فصلیں کاشت کی جائیں۔زمینوں کی حالت کو بہتر بنایا جائے تاکہ برفباری زیرِ زمین پانی کےذخائر کو بڑھانےکا سبب بنے۔ جنگلات کے کٹاؤ کو روک کر زیادہ سے زیادہ درخت لگائے جائیں اور دیہات میں لکڑی کی جگہ متبادل بہترایندھن استعمال کیا جائے تو کوئی شک نہیں کہ بلوچستان میں بگڑتے حالات کو ابتدائی سٹیج پر ہی قابو کیا جاسکتا ہے۔
جبکہ دوسری طرف جہلم کے قریب منتہیٰ کا پراجیکٹ بھی کامیابی کے ساتھ رواں تھا ۔۔ جسے فی الحال پوری طرح خفیہ رکھا گیا تھا۔ کئی ہفتوں کی شدید مصروفیات کے بعد وہ دونوں گھر پر اکھٹے ہوئے تھے ۔۔ رات دیر سے سونے کے باعث ارمان بارہ بجےتک خوابِ خرگوش کے مزے لے رہا تھا ۔۔ اور منتہیٰ کچن میں ممی کے پاس تھی جب ملازم نے اُس کی کسی مہمان کے آنے کی اطلاع
دی ۔۔ وہ اِس وقت گھر کے سادہ سے کپڑوں میں تھی ۔۔ دوپٹہ درست کرتی ہوئی ڈرائنگ روم میں داخل ہوتے ہوئے ٹھٹکی ۔
معقول اسلامی لبادے میں ملبوس وہ لڑکی ۔۔ یقیناًکیلی تھی ۔
کیلی تم یہاں ۔۔؟؟منتہیٰ خوشگوار حیرت کے ساتھ اُس سے گلے ملی ۔۔
کیلی نہیں ۔۔’’ آمنہ‘‘ ۔۔ میں نے اسلام قبول کر لیا ہے ۔۔ اُس نے اپنی ٹوٹی پھوٹی اردو میں جواب دیا
ماشاء اللہ ۔۔ لیکن تم یہاں کب آئیں ۔۔ بتایا کیوں نہیں ۔۔؟؟
میں ایک ہفتہ پہلے لاہور آئی تھی ۔۔ پچھلے دو ماہ سے میں مکہ میں تھی ۔
ایم سو ہیپی کیلی۔۔ اُوہ سوری آمنہ ۔۔ منتہیٰ ایک دفعہ پھر اس کے گلے لگی ۔
یُو نو مینا ۔۔ کہ میں نے اپنے لیے یہ نام اِ س لیے منتخب کیا ہے کہ یہ حضرت محمد ﷺ کی والدہ کا نام تھا ۔۔ میں سوچتی ہوں کہ وہ
ہستی جو سراپا محبت اور کرم تھی ۔ اس کی عظیم ماں کیسی ہوگی۔۔؟؟
آمنہ کے دل میں ماں کی اولین محبت کا خلا آج بھی باقی تھا ۔۔ آنکھوں کی نمی چھپا کر کر وہ مسکرائی ۔۔
تم کیسی ہو۔۔؟؟ مجھے نینسی سے تمہارے حادثے اور پھر شادی کا پتا لگا تھا ۔۔تم بہت خوش لگ رہی ہو ۔۔ ارمان کیسا ہے ؟؟
وہ بہت نائس اور خیال کرنے والا شوہر ہے ۔۔ منتہیٰ کی آنکھوں میں قندیلیں سی روشن تھیں ۔
تم آرام سے بیٹھو نا ۔۔ میں تمہیں ممی پاپا سے ملواتی ہوں ۔۔ منتہیٰ اٹھی ۔
پھر دو گھنٹے تک وہ نان سٹاپ باتیں کرتی رہیں ۔۔ منتہیٰ کو ارمان بھی یاد نہیں آیا۔۔ جو سویا پڑا تھا ۔
تم آج کل کیا کر رہی ہو منتہیٰ ۔۔؟؟ آمنہ نے سرسری اندا ز میں پوچھا ۔۔
وہ بس ۔۔ارمان کی فاؤنڈیشن کے کچھ پراجیکٹس ہیں ۔۔ اُس نے گول مول جواب دیا
آمنہ کے چہرے پر گہری مسکراہٹ اتری ۔۔ اُس نے منتہیٰ کے دونوں ہاتھ تھامے ۔یو نوواٹ مینا ۔۔ کہ ہارورڈ میں تمہاری
بہت ساری سرگرمیوں سے میں واقف تھی ۔۔ وہ ایک لمحے کو رکی ۔اس کی آنکھوں میں جھانکا ۔اور جو فائلز تم نے میرے لیپ ٹاپ سے کاپی کی تھیں نہ۔ تو وہ میں نے دیکھ لیا تھا ۔۔ منتہیٰ کا رنگ اُڑا ۔اس نے ہاتھ چھڑانے
کی کوشش کی ۔
پھر تم مجھ سے دوستی کی کوششیں بڑھاتی گئیں ۔۔ مجھے سب معلوم تھا ۔۔ مگر تم مجھے بہت اچھی لگتی تھیں ۔۔اور اب بھی لگتی ہو ۔۔
I adore you ..اُس نے مینا کے دونوں ہاتھ ہونٹوں سے لگائے ۔
تمہارا ساتھ۔۔ تمہاری دوستی نے مجھے زندگی کے ایک نئے مفہوم سے آ شنا کرایا ۔۔میں جو اند رسے ایک مری ہوئی عورت
تھی ۔ اب دوبارہ جینے لگی ہوں ۔میں جینا چاہتی ہوں ۔۔ زندگی سے اپنے حصے کی خوشیاں کشید کرنا چاہتی ہوں ۔
منتہیٰ ساکت سی اُسے دیکھے گئی۔۔ وہ پلکیں تک جھپکانا بھول گئی تھی ۔
میں تمہارا شکریہ ادا نہیں کرو ں گی ۔۔ میں اِن کاموں میں تمہارا بھرپور ساتھ دوں گی ۔۔ انشا ء اللہ ہم مل کر بہت کچھ کریں گے۔
انسانیت کی فلاح کے لیے ۔اپنی زمین کے دوام کے لیے ۔۔ اُس کا لہجہ بہت پُر عزم تھا ۔
اور ہم م لکر تمہارے لیے ایک پیارا سا محبت کرنے والا دولہا بھی ڈھونڈیں گے انشا ء اللہ ۔۔ ارمان کی آواز پر وہ دونوں چونکیں
جو نہ جانے کب سے پیچھے کھڑا ۔۔دونوں دوستوں کا رومانس دیکھ رہا تھا ۔
شیور ۔۔ اور وہ بالکل تمہارے جیسا سمارٹ ۔ محبت اور خیال کرنے والا ہونا چاہئے ۔۔ آمنہ چہکی
یہ تو مشکل ہو جائیگی آمنہ بی بی ۔۔ کیونکہ میرے جیسا کوئی اور پیس نہیں دنیا میں ۔۔ جس کا مقدر ۔یہ آپکی بد لحاظ اور سر پھری
دوست تھی ۔ منتہیٰ نے اُسے گھورا
ڈونٹ وری آمنہ تمہیں اِن سے بہت اچھا آئیڈیل سا۔۔ شوہرملے گا ۔
یا اللہ ۔۔یہ تیرے نا شکرے بندے ۔۔ ارمان ہاتھ اٹھا کر دہائی دینے لگا تھا کہ منتہیٰ نے اُسے کھینچ کر کشن مارا ۔
وہ بہت خوش تھی ۔’’کہتے ہیں کہ آپکی نیکی لوٹ کرواپس آپ کے پاس ہی آتی ہے۔‘‘ اُس نے صدقِ دل سے چاہا تھا کہ کیلی
اِس فرسٹرشن سے باہر نکل آئے ۔۔جس میں وہ بچپن سے مبتلا تھی۔ ان کی ٹیم میں آمنہ جیسی ذہین و فطین اور تجربہ کار انوائرمینٹل سائنٹسٹ کی شمولیت بلا شبہ ایک سنگِ میل تھا ۔

************

“اگر وقت کی روانی کو سمجھنا ہو تو ۔۔ کبھی کسی اُونچی چٹان پر کھڑے ہوکر ۔نیچے ساحل سے ٹکراتی موجوں کو دیکھنا۔۔ وقت بھی
اِن موجوں کی طرح انسان کی زندگی میں وارد ہوتا ہے ۔۔ کبھی دبے قدموں مسرتوں اور شادمانیوں کے تازہ جھو نکوں کی طرح ۔۔
کبھی شوریدہ سر موجوں کی صورت میں ۔۔ انسانی ذات کے اندر اور باہر بہت کچھ توڑتا ۔فنا کرتا ہوا ۔ کبھی بے رحم طوفانوں جیسا
ہر شے تہس نہس کردینے والا ۔۔لیکن اچھا یا برا ۔۔بہرحال وقت کٹ ہی جاتا ہے ۔۔ ساحل پر کس کے نقشِ پا ہمیشہ رہے ہیں مگر
داعمی حیات اُنہی کو ملتی ہے جودلوں میں زندہ رہتے ہیں ۔”
وہ ایک دفعہ پھر نیویارک میں تھی ۔۔منتہیٰ ارمان یوسف کو یونیسکو کی تقریب میں شرکت کر کے اپنا “وومن اِن سائنس”
ایوارڈ وصول کرنا تھا ۔۔وہ نہ صرف ایشیا سے یہ اعزاز پانے والی پہلی خاتون تھی ۔۔ بلکہ اب تک ایوارڈ پانے والیوں میں سب
سے کم عمر بھی تھی ۔
وہاں موجود شرکاء اُسے ایک ایسی بہادر لڑکی کے طور پر خراجِ تحسین پیش کر رہے تھے ۔۔ جو ایک بڑے حادثے سے گزرنے
اور ایک عالمی اعزاز سے محرومی کے با وجود ہمت نہیں ہاری ۔۔ جس نے اپنی معذوری کو چیلنج سمجھ کے قبول کیا ۔۔اور آج جس کا
شمار دنیا کے مایہ ناز فزکسٹ اور ٹیکنالوجسٹ میں کیا جا رہا تھا ۔۔ وہ بہت گہری مسکراہٹ کے ساتھ تعریفوں کے یہ سارے ہارگلے میں ڈالتی ہوئی ۔۔ مائیک تک آئی ۔
“میرا بچپن گورنمنٹ کے طرف سے ملے ہوئے ایک چھوٹے گھر میں گزرا ۔۔ اُس کے کشادہ آنگن میں ایک گھنا نیم کا درخت
تھا ۔جس پر ایک چڑیا کئی سالوں سے بسیرا کئے ہوئے تھی ۔۔ اُس کے بچوں کی چہچہا ہٹ ہماری زندگی کا ایک حصہ تھی ۔۔ پھر
یوں ہوا کہ ایک روز بہت زور کی آندھی آئی ۔۔ ایسی کے گھروں کی چھتیں اُڑ گئیں ۔۔اور طوفانی جھکڑ درختوں کو جڑ سے اکھاڑ کر
لے گئے ۔۔ میری دادی مجھے اور میری چھوٹی بہن کو اپنی گود میں چھپا کر سارا وقت تسبیح کا ورد کرتی رہیں ۔”
پھر جب طوفان تھما تو میں نے دیکھا کہ ہمارے آنگن کا وہ اکلوتا درخت جڑ سے اکھڑا پڑا تھا ۔۔ اور چڑیا کے گھونسلے کو طوفانی جھکڑ
اُڑا کر لیجا چکے تھے ۔ میرے ننھے سے ذہن کے لیے یہ زندگی کا پہلا بڑا حادثہ تھا ۔۔ میں ساری رات روتی رہی۔۔کئی روز تک
میں نے کھانا نہیں کھایا ۔پھر میرے ابو مجھے ہاتھ تھام کر ، سڑک کے پار کچی جھگیوں کی بستی لے کر گئے ۔۔ جہاں طوفان ہر شے کو
فنا کر چکا تھا ۔۔ اور وہ خانہ بدوش اِدھر اُدھر سے ٹوٹا پھوٹا سامان جمع کر ہے تھے ۔
“منتہیٰ‘‘۔ تم کئی دن سے روتی رہی ہو کہ تمہاری چڑیا کا گھونسلہ نہیں رہا ۔۔ انہیں دیکھو ۔۔اِن لوگوں کا کُل مال و متاع ۔آندھی اُڑا
کر لے گئی ہے ۔۔لیکن یہ لوگ رو نہیں رہے ۔۔ کیونکہ ان کا ایمان ہم پکے گھروں میں رہنے والے لوگوں جیسا نہیں ہے ۔
چڑیا کا آشیانہ ہو ۔۔یا یہ کچی جھگیاں ۔ سب اللہ تعالی کی عطا ہیں انسان کی ملکیت نہیں ۔۔ وہ خدا چڑیا کو دوبارہ گھونسلہ بھی دے گااور اِن خانہ بدوشوں کو بھی کہیں نہ کہیں پناہ مل جائیگی ۔
میرے ننھے ذہن میں ایک مدت تک کئی سوال کلبلاتے رہے ۔ جب اللہ پاک اتنا رحمن و رحیم ہے تو پھر یہ طوفان آتے ہی کیوں ہیں ۔کیوں زلزلے کی ایک چنگھاڑ شہر کے شہر برباد کر دیتی ہے ۔ کیوں یہ سیلاب بستیوں پر بستیاں اجاڑتے گزرجاتے ہیں ۔؟؟
مذہب نے مجھے بتایا کہ یہ انسان کے برے اعمال پر اللہ تعالیٰ کا قہر ہوتے ہیں ۔۔سائنس کہتی تھی کہ انسانی سرگرمیوں نے آئینو سفیئر ہیٹنگ اور گلوبل وارمنگ جیسے امراض کو جنم دیا ۔ جن سے زمین پر آفات کی شرح روز بروزبڑھتی چلی گئی ۔ یعنی مذہب اور سائنس ایک ہی تھیوری کے دو مختلف اندازِ بیاں تھے ۔
میری تلاش کا سفر سیو دی ارتھ نامی کمپین سے شروع ہوا ۔۔ میری سوچ تھی کہ جہاں انسان تباہی پھیلانے والی ٹیکنالوجی بنا سکتا ہے تو کہیں نہ کہیں فلاح کی ٹیکنالوجی کا سرا بھی ہوگا ۔۔جہاں شر ہو وہاں اللہ تعالیٰ خیر بھی ضرور اتارتا ہے ۔۔ یہ نیکی اور بدی کا ارتقاء ہی ہے جس نے زمین پر زندگی کے پہیے کو رواں رکھا ہوا ہے ۔۔ لیکن انسان کی رغبت ہمیشہ سے شر کی طرف زیادہ رہی ہے ۔۔ کہیں وہ خود حفاظتی کے نام پر نیو کلیئر اور کیمیائی ہتھیار بناتا ہے ۔۔ تو کہیں با یومیڈیکل انجینئرنگ میں ٹیکنالوجی کی انتہا پر پہنچ کر مصنوعی انسانی تخلیق کے تجربات کرتا ہے۔۔ خدا کے وجود کے منکر وں اور ان زمینی نا خداؤں کو اپنی آخری سانس کے ساتھ یہ یقین ضرور آجاتا ہوگا کہ اِس کائنات کا رکھوالا صرف اور صرف ایک اللہ تعالیٰ ہے ۔
میری جدوجہد کا سفر جاری رہا ۔۔ آج میرا ضمیر مطمئن ہے کہ اپنے ہم وطنوں ہی کے لیے نہیں ۔۔انسانیت کی فلاح کے لیے میں جو کچھ کر سکتی تھی ۔۔ میں نے اُس میں اپنی طرف سے کوئی کمی نہیں رہنے دی ۔۔ یونیسکو کا یہ وومن اِن سائنس ایوارڈ اور اِس کے ساتھ ملنے والی لاکھوں ڈالر کی رقم میں اپنے ہم وطنوں کے نام کرتی ہوں ۔۔ پاکستان کی اُن پسماندہ خواتین کے نام کرتی ہوں ۔۔جو اکیسویں صدی میں جی کر بھی ٹیکنالوجی کے نام سے بھی ہنوز نا بلدہیں ۔میرا مشن میری آخری سانس تک انشا ء اللہ جاری رہے گا ۔
دنیا بھرکی نامور شخصیات نیچے حاضرین میں دم بخود بیٹھی اِس دھان پان سی لڑکی کو سن رہی تھیں ۔ جو عزم اور حوصلے کی ایک چٹان
تھی ۔ انہی حاضرین کی پہلی صف میں ارمان یوسف بھی تھا ۔۔ جس کی گود میں بیٹھی ایک ننھی پری کی ستارہ آنکھیں بہت دیر سے سٹیج پر
کھڑی اپنی ماں پر مرکوز تھیں ۔۔ یوں جیسے وہ ماں کا ایک ایک لفظ اپنے اندر اتار رہی ہو ۔
ارمان نے دیکھا ۔۔اُس نے اپنے ننھے ہاتھوں کی انگلیاں آپس میں یوں پیوست کی ہوئی تھیں جیسے وہ ہاتھ کوئی عہد باندھ رہے ہوں،دس ماہ کی ستارہ آنکھوں اور فراخ پیشانی والی اِس ننھی گڑیا کو دیکھ کر کوئی بھی کہہ سکتا تھا کہ وہ ایک غیرمعمولی صلاحیتوں والی بچی تھی۔جس نے اپنی ماں سے بے پناہ ذہانت اور مضبوط قوتِ ارادی ورثے میں ملی تھی ۔۔ تو باپ سے اُسے وفا ، ایثار اور استقامت جیسی نیک
صفات پائی تھیں ۔
“”یہ ننھی پری ۔۔اَمل ارمان تھی۔ بہت جلد عالمی اُفق پر نمودار ہونے والا ۔پاکستان کا ایک درخشندہ ستارا ۔

ختم شد
********

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں