The news is by your side.

Advertisement

دہلی کو پاکستان کا شکرگزار ہونا چاہیے: یاسین ملک

سری نگر: جموں و کشمیر کی تحریکِ حریت کے رہنما یاسین ملک کا کہنا ہے کہ بھارتی حکومت کو پاکستان کا شکرگزار ہونا چاہیے کہ وہ کشمیر کی تحریک کو اسلحہ فراہم نہیں کرتا۔

کشمیری جدو جہدِ آزادی کے رہنما گزشتہ کئی دنوں سے قید میں تھے اور دورانِ علاج غلط انجکشن لگنے پر ان کی طبعیت ناساز ہوگئی تھی جس کے بعد بھارتی حکومت نے ہفتے کے روز چشمہ شاہی سب جیل سے رہا کیا تھا۔

اتوار کو یاسین ملک نے میڈیا سے گفتگو کی جس میں انہوں نے کشمیر میں جاری بھارتی جارحیت پر بے پناہ تشویش کا اظہار کیا‘ یاد رہے کہ گزشتہ چارماہ میں یاسین ملک دوسرے علیحدگی پسند لیڈر ہیں جنہیں میڈیا تک رسائی دی گئی ہے۔

اب کشمیریوں کا کفن بھی پاکستانی پرچم ہوگا

ان کا کہنا تھا کہ ’’گزشتہ ایک سال میں لگ بھگ سو کے قریب جوانوں نے بھارتی فورسز سے اسلحہ چھینا اور مسلح جدو جہد کا راستہ اپنا یا ہے جس کے لیے دہلی پاکستان کو موردِ الزام ٹھہراتا ہے‘‘۔

یاسین ملک نے مزید کہا کہ’’ دہلی کو پاکستان کا شکر گزار ہونا چاہیئے کہ وہ کشمیر کی تحریک کی اسلحے سے مدد نہیں کرتا بصورت دیگر بھارت کو کم از کم 20 ہزار مسلح حریت پسندوں کا سامنا کرنا پڑتا جو اس کے لیے ناممکن ہے‘‘۔

ان کا کہنا تھا کشمیر میں جس پیمانے پر حریت کی تحریک چل رہی ہے ‘ اتنی بڑی تحریک کو کچھ افراد یا کوئی ملک نہیں چلا سکتا بلکہ ایسی تحریکیں مقامی آبادی کی مرضی سے ہی چل سکتی ہیں اور اس تحریک کا سبب وہ بھارتی افواج کا تشدد اورمظالم ہیں جو ایک طویل عرصے سے وادی میں روا رکھے گئے ہیں اور گزشتہ ایک سال سے ان میں مزید شدت آئی ہے۔

یاسین ملک نے کشمیر کے شہریوں بالخصوص طلبہ کا شکریہ ادا کیا کہ جن کی مدد سے وادی میں چارماہ سے کامیاب ہڑتال جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’یہ نوجوانوں کی زندگیوں اور آنکھوں کا صدقہ ہے کہ کشمیر کی آواز ایک بار پھر عالمی سطح پر سنی جانے لگی ہے‘‘۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں