The news is by your side.

Advertisement

ابھی کورونا کی اقسام پر قابو نہیں پایا گیا کہ اب اچانک ۔۔۔۔۔۔۔! ماہرین نئی مشکل میں پھنس گئے

عالمی کورونا وبا میں تغیراتی تبدیلیاں رونما ہورہی ہیں جس کے باعث دنیا کے مختلف ممالک میں کوروناوائرس کی نئی اقسام دریافت ہوئیں جن میں برطانیہ، جنوبی افریقا، برازیل اور امریکا شامل ہیں۔

ماہرین نے اب وائرس کی ایک اور نئی قسم دریافت کرلی، یہ امریکی شہری نیویارک میں نمودار ہوئی جس کا نام ‘بی 1526’ رکھا گیا، یہ وبا کی دیگر اقسام سے بالکل مختلف ہے، اس قسم میں موجودہ ویکسین کو ناکارہ بنانے کی صلاحیت کو بھی دیکھا گیا، نئی صورت حال کے باعث ماہرین تشویش کا شکار ہیں۔

منظر عام پر آنے والی دو تحقیقی رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ وائرس کی ایک اور نئی قسم نیویارک میں پائی گئی ہے، اس وائرس کے نمونے پہلی بار نومبر 2020 میں سامنے آئے تھے۔

نمونوں پر ہونے والی تحقیق سے پتا چلا کہ یہ وائرس کی نئی قسم ہے۔ دونوں تحقیقی رپورٹس ابھی کسی جریدے میں شایع نہیں ہوئی ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ کیلی فورنیا میں تیزی سے پھیلنے والی قسم کے مقابلے میں نیویارک کی کورونا قسم زیادہ تشویش کا باعث ہے، اس کے بارے میں جان کر ہی کچھ کرسکتے ہیں۔

امریکا میں کوروناوائرس کی برطانوی قسم بھی پہنچ چکی ہے، اور خیال کیا جارہا ہے کہ مختلف اقسام کے مقابلے میں برطانوی قسم بڑی تعداد میں پھیل کر امریکا میں سب سے زیادہ عوم ہوجائے گا۔

تحقیق کے دوران ماہرین نے جنوبی افریقی اور برازیل میں پائی جانے والی کورونا اقسام کو بھی شامل کیا، مشاہدے میں بی 1526 (نیویارک قسم) دریافت ہوئی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس سے 12 فیصد مریض متاثر بھی ہوئے۔ اس قسم میں ای 484 نامی میوٹیشن(تغیراتی تبدیلی) کا عمل ہوتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اس قسم کے مریضوں کا اسپتال داخلے کا امکان زیادہ ہوتا ہے، یہ کیسز نیویارک کے مختلف علاقوں میں پھیل رہے ہیں اور یہ کوئی سنگل لہر نہیں ہے۔

خیال رہے کہ ڈنمارک میں ہونے والی تحقیق میں انکشاف ہوا تھا کہ وبا کی برطانوی قسم سے مریض کے اسپتال داخلے کا خطرہ زیادہ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ حالیہ کچھ تحقیقی رپورٹس میں نئی قسم کو زیادہ متعدی اور جان لیوا بھی قرار دیا جاچکا ہے اور اب نئے دعوے نے ماہرین کو تشویش میں مبتلا کردیا ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں